جولائی 5, 2026

سائنس دان پہلی بار مصنوعی خلیہ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے

سائنس دانوں نے تاریخ میں پہلی بار غیر جاندار اجزا سے مصنوعی خلیہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔امریکا کی یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلی بار ایک ایسا مصنوعی خلیہ تیار کیا ہے جو مکمل طور پر ابتدا سے غیر جاندار اجزا کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا، اور انھوں نے اس خلیے کا ’پوری حیاتیاتی زندگی کے چکر‘ سے گزرنے کا مشاہدہ بھی کیا، جس میں تولید بھی شامل ہے۔اگرچہ زندگی کے بہت سے اسرار اب بھی حل طلب ہیں، لیکن ہر ماہرِ حیاتیات ایک جان دار کے بنیادی حیاتیاتی افعال بیان کر سکتا ہے، جن میں توانائی کا استعمال، تولید، نشوونما اور ارتقا شامل ہیں۔ اگرچہ ان خصوصیات کو لیبارٹری میں الگ الگ نقل کیا جا چکا ہے، لیکن مکمل طور پر مصنوعی حیاتیاتی جاندار کا تصور طویل عرصے تک سائنس فکشن کا حصہ سمجھا جاتا رہاکالج آف بائیولوجیکل سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسرز کیٹ ایڈمالا اور ایرون اینگلہارٹ اور ان کی تحقیقی ٹیموں نے دنیا کا پہلا ایسا مصنوعی خلیہ تیار کیا ہے جس کا زندگی کا مکمل چکر ہے۔ یہ خلیہ مکمل طور پر غیر جاندار کیمیائی اجزا سے تیار کیا گیا ہے، اور اس کی تفصیلات ایک نئے تحقیقی مقالے میں بیان کی گئی ہیں۔ اسپڈ سیل (SpudCell) نامی یہ منصوبہ حیاتیاتی انجینئرنگ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ طب اور انجینئرنگ کے بعض انتہائی پیچیدہ مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسپڈ سیل کی نمایاں خصوصیات:
حیاتیاتی خلیے کے مکمل زندگی کے چکر کی نقل: اسپڈ سیل قدرتی انتخاب، جینوم کی نقل، نشوونما، خوراک حاصل کر کے وسائل جمع کرنے، اور جینیاتی ہدایات کے مطابق تقسیم ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائٹواسکیلیٹن کے بغیر خلیے کی تقسیم: قدرتی خلیے تقسیم ہونے کے لیے اپنے اندر موجود ایک ڈھانچے، جسے سائٹواسکیلیٹن کہا جاتا ہے، کا استعمال کرتے ہیں، اور یہی مصنوعی خلیوں کی تحقیق میں ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اسپڈ سیل اس ضرورت کو اس طرح پورا کرتا ہے کہ اس کی جھلی کی سطح پر پروٹین جمع ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ پیدا ہونے والا میکانی دباؤ جھلی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔قدرتی انتخاب اور مسابقت: محققین نے ایک جینیاتی تبدیلی متعارف کرائی جس سے فیوژن پروٹین کی پیداوار بڑھ گئی۔ اس کے نتیجے میں ایسے خلیے وجود میں آئے جو زیادہ تیزی سے بڑھے اور زیادہ تعداد میں نئی نسل پیدا کرنے لگے۔ پانچ نسلوں کے بعد تیزی سے بڑھنے والی قسم نے اصل خلیوں پر سبقت حاصل کر لی۔ غذائی قلت کی صورت میں یہ برتری مزید بڑھ گئی، جس سے ثابت ہوا کہ ایک مکمل مصنوعی کیمیائی نظام میں بھی قدرتی انتخاب اور مسابقت عمل کر سکتے ہیں۔تمام جانداروں کے جسم کی بنیادی ہدایات ڈی این اے میں محفوظ ہوتی ہیں۔ انسان کا جینوم تقریباً 30 لاکھ کلو بیس پیئرز (kbp) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کا خیال تھا کہ کسی زندہ خلیے کا جینوم کم از کم 113 کلو بیس پیئرز کا ہو سکتا ہے، لیکن اسپڈ سیل کا جینوم اس سے بھی چھوٹا، صرف 90 کلو بیس پیئرز پر مشتمل ہے۔اس خلیے میں جینوم ایک ہی کروموسوم کی بجائے سات الگ الگ ڈی این اے پلازمڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس ماڈیولر ساخت کی بدولت محققین خلیے کے مختلف افعال کو الگ الگ پروگرام کر سکتے ہیں۔ مزید تحقیق اور ترقی کے ساتھ، اسپڈ سیل اور اس کی آئندہ نسلیں پہلے سے زیادہ پیچیدہ افعال انجام دینے اور مختلف رویے ظاہر کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔
انفرادی اسپڈ سیلز کی تیاری کو مکمل انجینئرنگ نظام میں تبدیل کرنے کے لیے ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ خلیے کے ساتوں ڈی این اے پلازمڈز کو ایک زیادہ مستحکم واحد جینوم میں ضم کرنا ہوگا، جبکہ مزید سالماتی مشینری بھی تیار کرنا ہوگی۔ ایڈمالا اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ایک بنیادی مسئلہ انفرااسٹرکچر کا بھی ہے، کیوں کہ مختلف لیبارٹریوں میں کسی معیاری فعال خلیے کے لیے مشترکہ معیار موجود نہیں۔

محققین کے مطابق آج ہم جن زیادہ تر مصنوعات، جیسے ادویات، مختلف مواد اور صنعتی کیمیکلز، پر انحصار کرتے ہیں، انھیں بنانے کے لیے یا تو قدرتی خلیوں سے کام لیا جاتا ہے یا پھر ایسے صنعتی کیمیائی عمل استعمال کیے جاتے ہیں جن میں بہت زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ مصنوعی خلیے ایسے کیمیائی عمل انجام دے سکتے ہیں جو موجودہ صنعتی طریقوں سے ممکن نہیں۔ اس سے خاص طور پر طب کے شعبے میں بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں زیادہ مؤثر اور انتہائی درست ادویات تیار کی جا سکیں گی، جن میں ایسے امینو ایسڈ بھی شامل ہوں گے جو قدرتی ارتقائی عمل میں کبھی استعمال نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ یہ تحقیق شائع کرانے کے دوران کچھ مشکلات بھی پیش آئیں، بتایا جاتا ہے کہ معروف سائنسی جریدے سیل (Cell) کے ایک جائزہ کار نے یہ رائے دی کہ یہ منصوبہ حقیقی حیاتیاتی تحقیق نہیں ہے۔