جون 4, 2026

پاکستان کا ٹرانسپورٹ، سیاحت اور تجارت کے شعبے میں بہتری کیلیے ایک اور تاریخی فیصلہ

سیاحت، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے مانسہرہ سے کاغان اور چلاس تک 172 کلو میٹر موٹروے کی منظوری دے دی گئی۔وفاقی وزیر مواصلات علیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اجلاس میں موٹروے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے مانسہرہ سے کاغان، ناران، جھل کھنڈ اور چلاس سے گزرنے والی نئی موٹروے کی تعمیر کی منظوری دی۔موٹروے کی مجموعی لمبائی 172 کلومیٹر ہوگی اور مانسہرہ سے کاغان اور چلاس کا فاصلہ تقریباً 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔ پہلے مرحلے میں مانسہرہ سے کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ اور دوسرے مرحلے میں بابوسر ٹاپ سے چلاس تک موٹروے بنے گی۔اس منصوبے میں 13.5 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل بھی بنائی جائے گی جو کہ ملک کی سب سے لمبی سرنگ ہوگی۔ نئی موٹروے کا یہ شاندار منصوبہ مغربی چین کو براہِ راست کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑے گا۔ماہرین کے مطابق یہ شاہراہ بحیرہ عرب سے مغربی چین تک پہنچنے کا تیز ترین، مختصر ترین اور کم لاگت والا راستہ ثابت ہوگی اور سامان کی ترسیل کا وقت کم ہوگا۔جدید سہولیات کے باعث یہ موٹروے قومی ترقی، علاقائی رابطوں اور اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم اور قابل تعریف قدم ہے۔