جون 2, 2026

مصنوعی مٹھاس جگر کی بیماری کا سبب ہو سکتے ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سوربیٹول (جو کم کیلوری والے میٹھے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے) بعض حالات میں میٹابولک ڈسفنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) یعنی فیٹی لیور کی بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس تحقیق نے اس عام تصور کو بھی چیلنج کیا ہے کہ شوگر الکوحل جسم سے بغیر کسی اثر کے خارج ہو جاتے ہیں۔سوربیٹول عام طور پر شوگر فری ٹافیوں، چیونگ گم، پروٹین بارز اور کم چینی والی دیگر غذاؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر بعض پھلوں اور سبزیوں، خصوصاً آڑو، خوبانی اور آلو بخارے جیسے اسٹون فروٹس (ایسے پھل جن کے بیج کے گرد ایک خول ہوتا ہے)میں بھی پایا جاتا ہے۔ایم اے ایس ایل ڈی (جسے پہلے نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز یا این اے ایف ایل ڈی کہا جاتا تھا) موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر میٹابولک مسائل سے جڑی ایک عام جگر کی بیماری ہے۔ اس سے پہلے کی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ فرکٹوز فیٹی لیور کے بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ یہ بیماری دنیا بھر میں تقریباً 30 فی صد بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے۔امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی اِن سینٹ لوئس کے سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر آنتوں میں موجود وہ مفید بیکٹیریا جو سوربیٹول کو توڑتے ہیں، موجود نہ ہوں یا ان کی صلاحیت کم پڑ جائے، تو سوربیٹول جگر میں جا کر فرکٹوز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔دوسرے لفظوں میں، جس سوربیٹول کو لوگ عام چینی کا نسبتاً محفوظ متبادل سمجھتے ہیں، وہ مخصوص حالات میں جسم کے اندر ایسی شکل اختیار کر سکتا ہے جو فیٹی لیور کے خطرے میں اضافہ کرے۔یہ نتائج معروف سائنسی جریدے سائنس سگنلنگ میں شائع ہوئے ہیں۔