لندن: برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہید رہنما اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں انتہائی سخت سکیورٹی کے حصار میں ادا کردی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق نماز جنازہ جمعرات کے روز محدود پیمانے پر منعقد کی گئی، جس میں آیت اللہ خامنہ ایکے اہل خانہ، قریبی رفقا اور چند اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ تقریب کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا اور سکیورٹی خدشات کے باعث عوامی شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔تاہم اس خبر کی تاحال کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہوسکی جبکہ ایرانی حکومت یا سرکاری میڈیا کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے روز اپنے چند اہل خانہ سمیت شہید ہوگئے تھے۔رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں ایران کی عسکری قیادت کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا اور کئی اعلیٰ فوجی حکام اور مشیران مارے گئے تھے، جن میں میجر جنرل عبدالرحیم موسوی، ریئر ایڈمرل علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور شامل تھے۔خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اس خبر نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ایران میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔




