وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں لیکن 80 فیصد مریض اس بیماری سے لاعلم ہیں تاہم 67 ارب روپے کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے۔وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم ہیپاٹائٹس سی خاتمہ پروگرام کی سافٹ لانچنگ کی تقریب میں مفت اسکریننگ اور علاج کا اعلان کر دیا اور پروگرام کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے اسے پاکستان کے صحت کے شعبے کے لیے تاریخی اور انقلابی قدم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 67 ارب روپے مالیت کا یہ پروگرام ایک دہائی کی مسلسل کوششوں کے بعد شروع کیا گیا ہے، دنیا بھر میں تقریباً 6 کروڑ ہیپاٹائٹس مریض موجود ہیں جن میں سے ایک کروڑ پاکستان میں ہیں جبکہ 80 فیصد افراد اپنی بیماری سے لاعلم ہیں۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہیپاٹائٹس سی بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جگر کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے احتیاط، بروقت تشخیص اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نظام صحت کو “سک کیئر” سے حقیقی “ہیلتھ کیئر” کی طرف منتقل کرنا ہوگا جہاں بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دی جائے۔وفاقی وزیر کے مطابق نادرا کے تعاون سے ملک بھر میں اسکریننگ مہم چلائی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے، ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد کے وفاقی اسپتالوں میں 12 اسکریننگ کاؤنٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہیپاٹائٹس سی کا اسکریننگ ٹیسٹ، جس کی قیمت تقریباً 7 ہزار روپے ہے اور تین سے چھ ماہ تک جاری رہنے والا مکمل علاج پروگرام کے تحت مفت فراہم کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مصر ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ عوام کو چاہیے کہ بروقت اسکریننگ کروائیں تاکہ اس بیماری کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے باعث ملک کے اسپتالوں اور ڈاکٹروں پر شدید دباؤ ہے جہاں ایک ڈاکٹر کو روزانہ 30 کے بجائے 350 سے زائد مریض دیکھنے پڑتے ہیں۔




