وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور وسائل کے موثر استعمال کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس پر قابو پانا وقت کی اہم ترین قومی ضرورت ہے۔نیشنل اینڈ پروونشل پاپولیشن پروجیکشنز 2023 تا 2050 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کا 82 فیصد انحصار آبادی کے تناسب پر ہے،اس لیے ضروری ہے کہ اس نظام میں ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جو آبادی میں توازن پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی بھی صوبے کے پاس آبادی میں کمی لانے یا شرح اضافہ کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر ترغیب موجود نہیں، لہٰذا ایسے صوبوں کو اضافی مراعات اور خصوصی انسنٹیوز دیئے جانے چاہئیں جو آبادی کے تناسب میں بہتری اور ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومتیں مثبت اور سنجیدہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں فعال کردار ادا کریں گیانہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافہ موجودہ رفتار سے جاری رہا تو 2050ء تک پاکستان کی آبادی 37 سے 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے جس سے صحت، تعلیم، روزگار، پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات پر شدید دبائو بڑھے گاوفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان پہلی مرتبہ ڈیجیٹل مردم شماری کی بنیاد پر اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور یہ پاپولیشن پروجیکشنز قومی پالیسی سازی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گیانہوں نے کہا کہ آبادی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ قومی ترقی، انسانی وسائل، معیشت، صحت، تعلیم اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا بنیادی مسئلہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ کائنات کی بقاء توازن، اعتدال اور میزان کے اصول پر قائم ہے اور اسلام بھی توازناور ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبادی میں توازن پیدا کرنا کسی مذہبی بحث کا نہیں بلکہ قومی بقاء، انسانی ترقی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وسائل سے زیادہ آبادی بڑھتی رہی تو وسائل کمزور اور ناکافی ہو جائیں گے جس کے اثرات براہ راست عوام کے معیار زندگی پر پڑیں گے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی رفتار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کے برابر شمار کی جا رہی ہے جو ایک ایٹمی طاقت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ماضی میں یہ سمجھ رہی تھی کہ آبادی کی رفتار قابو میں آ رہی ہے تاہم 2023ء کی مردم شماری نے ظاہر کیا کہ صورتحال تشویشناک حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو محض آبادی کی تعداد بڑھانے کے بجائے تعلیم یافتہ، ہنر مند، صحت مند اور باصلاحیت انسانی سرمایہ تیار کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً چالیس فیصد بچے غذائی کمی اور نشوونما کی کمزوری کا شکار ہیں کیونکہ بہت سے والدین اپنے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کے وسائل نہیں رکھتے۔انہوں نے اس صورتحال کو ’’قومی ایمرجنسی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی اور وسائل میں توازن پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2050ء تک 18 سال سے کم عمر آبادی 117 ملین سے بڑھ کر 140 ملین جبکہ ورکنگ ایج آبادی 135 ملین سے بڑھ کر 255 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، ہنر، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی آبادی پاکستان کے لیے ایک عظیم ’’ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ یہ پاپولیشن پروجیکشنز ’’اڑان پاکستان‘‘، وژن 2035، ایس ڈی جیز، آئندہ فائیو ایئر پلانز اور این ایف سی ایوارڈ سمیت قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کی بنیاد بنیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیٹا پر مبنی گورننس، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل کی ضروریات کے مطابق موثر منصوبہ بندی کو یقینی بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد آبادی کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، اس لیے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آبادی میں توازن کے لیے موثر اور عملی اقدامات کریں۔انہوں نے تجویز دی کہ این ایف سی ایوارڈ میں ایسی اصلاحات لائی جائیں جن کے تحت آبادی میں کمی کی شرح دکھانے والے صوبوں کو اضافی مراعات اور ترغیبات دی جائیں تاکہ صوبے آبادی میں توازن کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔وفاقی وزیر نے میڈیا، ماہرین، محققین اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ آبادی، انسانی ترقی اور وسائل کے موثر استعمال سے متعلق قومی شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ بے قابو آبادی ایک ’’سماجی بم‘‘ کی مانند ہے جو پاکستان کے معاشی اہداف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں پاکستان کو ہنر مند افرادی قوت کے بجائے صرف غیر تربیت یافتہ مزدور میسر آئیں گے۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے آبادی میں توازن، انسانی ترقی اور وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد جاری رکھے گی تاکہ پاکستان ایک مضبوط، متوازن اور خوشحال ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکے۔تقریب میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال ، ممبران پلاننگ کمیشن، یو این ایف پی کی نمائندہ ڈاکٹر گلنارا قادرکولووا، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز کے اعلیٰ حکام، سینئر سرکاری افسران، ماہرین، محققین، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔




