اپریل 29, 2026

ورلڈ بینک نے توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2026 کے دوران توانائی کی قیمتیں 24 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ خطے میں تناؤ مئی تک کم بھی ہو جائے، تب بھی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔تاہم اگر کشیدگی میں مزید شدت آئی اور سپلائی متاثر ہوئی تو توانائی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔عالمی بینک کے مطابق تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹوں نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے جس کے اثرات عالمی منڈیوں میں نمایاں ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2026 میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ 2025 میں یہ اوسطاً 69 ڈالر فی بیرل رہی تھی۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا یا تجارتی راستے مکمل طور پر بحال نہ ہو سکے تو قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بتدریج بہتر ہو سکتی ہے اور اکتوبر تک جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچنے کی توقع ہے تاہم اس کا انحصار خطے میں امن و استحکام پر ہوگا۔