جون 19, 2026

دن میں کتنے گھنٹے بیٹھ کر گزارنا صحت کیلئے نقصان دہ نہیں ہوتا؟

بہت زیادہ دیر تک بیٹھنے سے موٹاپے، کینسر اور امراض قلب جیسے سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔مگر بہت کم وقت تک بیٹھنا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جرنل آف اسپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق میں 41 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ روزانہ کتنے گھنٹے بیٹھ کر گزارنا صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں اوسطاً 4 گھنٹے بیٹھنے والے افراد میں مختلف امراض کا خطرہ 2 گھنٹے سے کم یا 8 گھنٹے سے زائد وقت تک بیٹھنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔محققین کے مطابق فوائد اور نقصانات کی شرح ہر فرد میں مختلف ہوتی ہے۔جسمانی طور پر متحرک افراد کے لیے مناسب وقت تک بیٹھنا صحت کے لیے مفید ہوتا ہے اور ہڈیوں پر دباؤ کم ہوتا ہے یا جسمانی ریکوری کا وقت بہتر ہوتا ہے۔محققین نے بتایا کہ اگرچہ زیادہ وقت تک بیٹھنا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے مگر ہماری تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ بیٹھنے اور صحت کے درمیان تعلق اتنا سادہ نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جسمانی طور پر بہت زیادہ متحرک افراد کے لیے معتدل وقت تک بیٹھنا درحقیقت فائدہ مند ہوتا ہے۔تحقیق کا دائرہ بڑھانے پر دریافت ہوا کہ لوگوں کے بیٹھنے کا اوسط وقت اس بات کی تعین کرتا ہے کہ ان کی صحت کے لیے کیا مفید ہے اور کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔تحقیق میں شامل 50 فیصد سے زائد افراد روزانہ 4 گھنٹے سے کم وقت تک بیٹھ کر گزارتے تھے۔ان افراد کی صحت کو اس وقت فائدہ ہوا جب انہوں نے جسمانی سرگرمیوں کے 30 منٹ کے وقت کو سونے یا بیٹھنے سے بدل دیا، جس سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 4 سے 6 فیصد تک گھٹ گیا۔اسی طرح جو افراد روزانہ 4 گھنٹے سے زائد وقت تک بیٹھ کر گزارتے ہیں، ان کی صحت کو اس وقت فائدہ ہوتا ہے جب وہ بیٹھنے کے وقت میں 30 منٹ تک کمی لاکر جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنالیتے ہیں۔محققین کے مطابق ان نتائج سے ان سفارشات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور جسمانی سرگرمیوں کے وقت کو بڑھانا چاہیے۔