جون 6, 2026

پگھلتے گلیشیئرز، گِرتے برفانی تودے اور سیاحوں کی عدم موجودگی: گلگت بلتستان میں کیا ہو رہا ہے؟

پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں حالیہ مون سون سیزن کے دوران سیلابی ریلوں کے کم از کم 20 چھوٹے، بڑے سیلاب واقعات پیش آئے ہیں جن میں حکام کے مطابق کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ نقصانات کا تخمینہ 25 ارب روپے لگایا گیا ہے۔حکام کے مطابق اسی دورانیے میں لینڈ سلائیڈنگ کے بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے جس کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ گلگت بلتستان کی حکومت اور ماہرین کے مطابق ان واقعات کی بڑی وجہ گلیشیئر جھیلوں کا پھٹنا، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کا پگھلنا اور مختلف مقامات پر موسلا دھار بارشیں ہیں۔حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے سیاحتی مقام ہنزہ کے قریب احسن آباد کے مقام پر شیشپر گلیشیئر میں پیش آئے واقعے اور ہنزہ ہی کے علاقے گوجال اور گلمت میں دریائے ہنزہ کے بپھرنے سے نالے میں آنے والی شدید طغیانی کے باعث دو مختلف مقامات پر شاہراہ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے تاحال بند ہے۔اسی طرح بلتستان کے علاقے شگر میں چھ مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں کے باعث شاہراہ کے ٹو بھی بند ہو چکی ہے۔ ان آفات کے پیش نظر خطے میں سیاحتی سرگرمیاں بڑی حد تک متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ کروڑوں روپے میں ہے۔ اس صورتحال کے باعث مقامی لوگ بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’احسن آباد کے نالے میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے تین، چار گھنٹے پہلے گلیشیئر سے اچانک آئس (بڑے اور سخت ٹھوس برف کے گولے) گرنا شروع ہو گئے تھے۔ یہ صورتحال ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد احسن آباد نالے میں پانی رُک گیا اور پھر جب اس میں سے پانی آنا شروع ہوا تو یہ سیلابی صورتحال تھی۔ پانی کا بہاؤ انتہائی خوفناک حد تک تیز تھا، ایسا ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد نے نزدیکی علاقوں سے بھاگ کر جان بچائی تھی۔ ’میرے گھر کو معمولی نقصان پہنچا ہے جبکہ علاقے میں تین گھر قابل استعمال نہیں رہے ہیں۔ زرعی زمینوں اور باغات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔‘اسی طرح گلمت کے رہائشی نوشاد کا کہنا تھا کہ ’یہ سیلابی ریلا اُس نالے میں آیا ہے جو گلمت علاقے کے درمیان سے گزرتا ہے۔ پانی بہت زیادہ تھا جو جلد ہی شاہراہ قراقرم پر آ گیا جس کی وجہ سے یہ شاہراہ تاحال بند ہے۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب پانی کا بہاؤ دیکھ کر امید کی جا رہی ہے کہ چند گھنٹوں میں یہ پانی اُتر جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ’پانی سے بہت تباہی ہوئی ہے۔ کم از کم چار ایریگیشن چینل ختم ہو چکے ہیں اور پانی کا سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔ اصل نقصانات کا اندازہ تو پانی اُترنے کے بعد ہی ہو گا۔‘
گلگت بلتستان شعبہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل سید بقدر شاہ کا کہنا تھا کہ اِس وقت گلگت بلتستان واضح طور پر موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہے۔انھوں نے کہا کہ ’سردیوں میں بارشیں اور برفباری کم ہوئی اور اب اس سیزن میں بھی اوسط بارشیں کم تھیں، جس کی وجہ سے درجہ حرارت اوسط سے کافی زیادہ رہا۔ ہمارے اندازوں کے مطابق درجہ حرارت اوسط سے چار، پانچ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا تھا، جس کے نتائج اب ہمارے سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر خطے میں بارشیں کم ہوئیں مگر کچھ علاقوں میں تھوڑے دورانیے میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے سیلابی صورتحال پیدا کی جیسا کہ بابو سر ٹاپ کے علاقے میں ہوا ہے۔سید بقدر شاہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مختلف الرٹس بھی جاری ہوئے تھے۔ ’اس سیزن میں جو سیلابی صورتحال دیکھئی گئی ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی۔ امید ہے کہ ستمبر میں درجہ حرارت اوسط پر چلا جائے گا جس سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ مگر اگست کے ماہ میں یہ خدشہ موجود رہے گا کہ دوبارہ گلیشیئر پگھلنے اور دریاوں میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔‘’آئی سی آئی ایم او ڈی‘ سے منسلک گلیشیئرز کے ماہر ڈاکٹر شیر محمد کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث صرف گلیشیئر جھیل پھٹنے کے واقعات نہیں ہوتے بلکہ گلیشیئرز بھی زیادہ پگھل رہے ہیں، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شیشپر گلیشیئر میں دو سال پہلے جھیل پھٹنے کا جو واقعہ ہوا ہے، وہ اس دفعہ پیش آئے واقعے سے مختلف تھا۔