اکتوبر 31, 2026

مصر میں صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی، آزاد میڈیا مزید دباؤ کا شکار

مصر میں آزاد صحافت کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انسانی حقوق اور صحافتی آزادی کی تنظیموں کے مطابق حکام نے ایک ہی ماہ کے دوران ایک پورے نیوز روم کے 6 صحافیوں کو گرفتار کیا، معروف صحافی لینا عطا اللہ کے خلاف مقدمہ چلایا اور دیگر آزاد صحافیوں کو بھی تفتیش کے لیے طلب کیا۔تازہ ترین پیش رفت میں قاہرہ کی ایک عدالت نے 27 اکتوبر کو آزاد نیوز ویب سائٹ مَدٰی مصر کو بند کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس کی ایڈیٹر ان چیف لینا عطا اللہ کو بغیر لائسنس ویب سائٹ چلانے کے الزام میں سزا دی، ان پر تقریباً 53 ہزار 400 ڈالر جرمانہ عائد کیا اور ادارے کی املاک ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔مَدٰی مصر کا کہنا ہے کہ اس نے 2018 میں لائسنس کے لیے درخواست دی تھی لیکن حکام کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔دوسری جانب Matsadaash نامی تحقیقاتی اور فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم سے وابستہ تمام 6 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔ مصری حکام نے ان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات، جعلی خبریں پھیلانے اور بیرونِ ملک سے مالی معاونت حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔صحافیوں کے ساتھیوں اور وکلا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی دراصل آزادانہ صحافت اور حکومتی اداروں پر تنقید کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔صحافتی آزادی کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق مصر میں اس وقت 25 صحافی جیل میں ہیں، جو 2021 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اب صرف انفرادی صحافیوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی بلکہ آزاد میڈیا اداروں، ان کے مالی ذرائع اور صحافتی تنظیموں کو بھی دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی لینا عطا اللہ کے خلاف مسلسل قانونی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور اسے آزاد صحافت کو ہراساں کرنے کا سلسلہ قرار دیا ہے۔