ستمبر 16, 2026

نام نہاد سیکولر بھارت کا پردہ چاک؛  مسلم سرکاری افسران بھی ہندوتوا کے نشانے پر

نام نہاد سیکولر بھارت کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں مسلم سرکاری افسران بھی ہندوتوا انتہاپسندوں کے نشانے پر آ گئے۔ہندوتوا کے زیر اثر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے، اور اب سرکاری افسران کو بھی ہراسانی و تعصب زدہ سوچ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارتی جریدے مکتوب میڈیا کے مطابق اسلامی جملوں کے استعمال پر ہندوتوا انتہا پسندوں کی نفرت انگیز مہم کے بعد مسلم آئی پی ایس آفیسر بشریٰ بانو کا تبادلہ کر دیا گیا۔مکتوب میڈیا کے مطابق ’السلام علیکم‘ اور ’جزاک اللہ‘ بولنے پر انتہا پسند ہندو گروہوں نے مسلم خاتون افسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انتہاپسند تنظیم ہندو لیگل فنڈز نے ہوم سیکریٹری کو مسلم آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کیخلاف شکایت درج کرائی ہے۔۔ہندوتوا سرگرمیوں پر ہندو پولیس افسرانوج چودھری کو ترقی اور مسلم افسر کا تبادلہ مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک کا عکاس ہے۔بھارت میں مذموم سیاسی عزائم کے لیے نفرت و تقسیم اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر مظالم بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔