ستمبر 8, 2026

سعودی توانائی مراکز پر حوثی حملوں سے کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، وزارت خارجہ کی شدید مذمت

ریاض: سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں متعدد توانائی تنصیبات اور مراکز پر حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر آگ لگ گئی جبکہ بعض آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔سعودی وزارت توانائی کے مطابق حملوں کے بعد متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ متعلقہ ادارے متاثرہ تنصیبات کو محفوظ بنانے، آگ پر قابو پانے اور نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔سعودی حکام کے مطابق حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔سعودی وزارت خارجہ نے حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔ سعودی حکام نے مزید کہا کہ حملوں کے اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور تنصیبات اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔حالیہ حملوں نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کے تحفظ اور خطے میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ جازان میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بھی حالیہ دنوں میں حملوں کا سامنا رہا ہے، تاہم تازہ نقصانات کا مکمل تخمینہ ابھی سامنے نہیں آیا۔