ستمبر 6, 2026

چھ ستمبر 1965 کی شام پاک فضائیہ بھارتی ایئر بیس پٹھان کوٹ پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی

سن 1965، 6 ستمبر کی شام پاک فضائیہ کے شیر دل اسکواڈرن نے بھارتی ایئر بیس پٹھان کوٹ پر تاریخ ساز حملہ کرکے دشمن کی فضائی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔پاک فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 19 نے صرف 23 منٹ کے برق رفتار حملے میں بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 23 کو خاکستر کر ڈالا۔پاک فضائیہ کے سابق ونگ کمانڈر غلام تواب کے مطابق پشاور ایئر بیس سے 257 کلومیٹر دور پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔شام ساڑھے پانچ بجے حملے کا آغاز ہوا اور صرف چند لمحوں میں پاک فضائیہ کے شاہین دشمن کے ایئر بیس پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ شام 6 بجے تک پٹھان کوٹ ایئر بیس تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا۔فضائی معرکے میں پاک فضائیہ نے رن وے پر کھڑے سات مگ 21 طیاروں سمیت 13 بھارتی جنگی جہاز تباہ کر ڈالے۔ برق رفتار اور اچانک حملے کے باعث بھارتی جنگی جہازوں کو اڑان بھرنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔پاک فضائیہ نے بغیر کسی نقصان کے پٹھان کوٹ ایئر بیس کو پوری جنگ کے لیے ناکارہ بنا دیا۔سابق بھارتی ایئر مارشل راگھوندرن کے مطابق حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بھارتی پائلٹ جہاز اڑانے کےبجائے پاک فضائیہ کے حملے سے چھپتے رہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ حملے کی شدت کے باعث جان بچانے کے لیے خندقوں میں چھپنا پڑا، جبکہ پاک فضائیہ کے طیارے شدید اینٹی ایئر کرافٹ فائر کے باوجود بلا خوف و خطر بھارتی فضائی اڈے کو نشانہ بناتے رہے۔