ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ ٹماٹر کھانے سے جگر میں چربی جمع ہونے کی بیماری سے متاثرہ افراد میں جگر کی چربی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔نان الکوحل فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی) برطانیہ میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کا تعلق موٹاپے، بلند کولیسٹرول اور ٹائپ 2 ذیا بیطس سے ہے۔ بعض افراد میں یہ بیماری جگر میں سوزش اور داغ بننے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ شدید صورتوں میں جگر ناکارہ ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اٹلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹرواینٹرولوجی کے محققین نے فیٹی لیور ڈیزیز اور 30 یا اس سے کم بی ایم آئی رکھنے والے 79 بالغ افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا۔ایک گروپ نے چھ ہفتوں تک روزانہ 200 گرام کچے ٹماٹر (یعنی تقریباً ایک بڑا ٹماٹر) کے ساتھ 50 گرام ٹماٹر ساس استعمال کی جبکہ دوسرے گروپ نے ٹماٹر سے پاک غذا اختیار کی۔چھ ہفتوں بعد خصوصی اسکین کے ذریعے شرکا کے جگر میں موجود چربی کی مقدار کا جائزہ لیا گیا۔نتائج کے مطابق دونوں گروپوں میں جگر کی چربی میں کمی ہوئی۔ تاہم، ٹماٹر استعمال کرنے والے افراد میں کمی زیادہ نمایاں تھی۔ٹماٹر کھانے والے گروپ میں جگر کی چربی کی مقدار چھ ہفتوں کے دوران ابتدائی سطح کے مقابلے میں تقریباً 11 فی صد کم ہوئی جبکہ ٹماٹر سے پرہیز کرنے والے گروپ میں یہ کمی تقریباً 6 فی صد رہی۔جرنل نیوٹرینٹس میں شائع ہونے والی اور اطالوی وزارتِ صحت کی جانب سے فنڈ کی گئی اس تحقیق سے ٹماٹر کے استعمال اور جگر کی صحت کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آتا ہے۔البتہ، مزید تحقیق سے اس اثر کی تصدیق ضروری ہے۔




