اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کو الشفاء کے بجائے پمز اسپتال لے کر جانے کے معاملے پر پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ شاید کچھ دن بعد ہم اس اسمبلی کا حصہ نہ رہیں، آپ کو اپنے سٹائل کی جمہوریت مبارک ہو۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ ہم پارلیمنٹ میں رہیں اس لیے ہمارے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ اس ایوان میں رہیں، شاید آپ بھی نہیں چاہتے کہ ہم اس سسٹم کا حصہ رہیں لہٰذا ہم کچھ دنوں میں فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف سینیئر سیاستدان ہیں، خواجہ آصف جو فیصلہ کریں، اگر آپ کہتے ہیں ہم اس کونے میں نا رہیں تو ہم چلے جائیں گے، اس جمہوریت کو اگر بچانا ہے تو جو باتیں کہی ان پر غور کریں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اپنے سپورٹرز اور ووٹرز کو کہا کوئی الشفاء انٹرنیشنل اسپتال نہ جائے، ہم نے کہا سپریم کورٹ آرڈر کا احترام کیا جائے اور کوئی ویڈیو نہ بنائے، کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے بانی پی ٹی آئی کا علاج صحيح نہ ہو لیکن کون ہے جو رات کو اچانک بانی پی ٹی آئی کو دوسرے اسپتال لے گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کوئی لوگ ہیں جو اس عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، وہ کون ہیں جو عمران خان کو غلط اسپتال لے گئے، وہ کون تھے جو ایک گھنٹے کے اندر اندر عمران خان کو واپس لے گئے، کوئی لوگ ہیں جو اسکو سبوتاژ کرتا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ کہ بانی پی ٹی آئی زندگی اور موت کی کس کشمکش سے گزر رہے ہیں، ہم نے کہا کہ ہم صحت پر سیاست نہیں کریں گے، میں اپنے ووٹر کو فیس نہیں کر سکتا، ہمارے ورکرز پر آج کا دن بہت بھاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن دنیا مانتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی مقبول ترین لیڈر ہیں، بعض لوگ کو اتنا ڈر ہے کہ اسکی ایک جھلک برداشت نہیں کر سکتے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جنوری میں پہلے حکومت نے یہ بیان دیا کہ ہاں شفٹ کیا ہے انکی آنکھ کا مسئلہ ہے، ہم 25 مرتبہ ہائی کورٹ اور 17 مرتبہ سپریم کورٹ گئے، اتنی بار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ جانے کے باوجود ہمیں انصاف نہیں ملا، ہم نے اتنا کہا کہ کنویکٹڈ کریمنل بھی ہے تو اسکا حق ہے کہ فیملی سے ملے، ایک عام قیدی کا حق تو اسکو دیں۔




