میرپور، آزاد کشمیر: آزاد کشمیر میں تیسرے مرحلے کے لیے انتخابی دنگل کا آغاز ہوگیا، قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026 کے اس مرحلے میں پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے الزام لگایا ہے کہ پولنگ ایجنٹس کو انتخابی عمل کی نگرانی سے روکنا شفاف انتخابات کے منافی ہے، الیکشن کمیشن فوری مداخلت کرے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں کسی بھی رکاوٹ یا بے ضابطگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، الیکشن کمیشن فوری ازالہ کرے۔پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ آج کے انتخابات پر ہمارے تحفظات ہیں، ایل اے 15 اور 16 میں نو شکایات الیکشن کمیشن کو جمع کروا دی ہیں، ہمارے پولنگ اسٹاف کی پولنگ اسٹیشن میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق تیسرے مرحلے کے اس انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں اس کے لیے ضلع باغ کے 3 اور حویلی کے ایک حلقے میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔واضح رہے کہ شیڈول میں تبدیلی کے باعث ڈویژن پونچھ کے 5 اور سدھنوتی کے 2 حلقوں میں انتخابات پہلے ہی مؤخر کر دیے گئے تھے۔انتخابی دنگل میں مسلم کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان، وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور آئی پی پی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس حصہ لے رہے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 4 لاکھ 60 ہزار ووٹرز کا اندراج ہے جو آج اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ انتخابی عمل کے نگرانی اور پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے چاروں حلقوں میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی جس میں مسلم لیگ ن نے 9 نشستوں پر اپنا قبضہ جمایا تھا جبکہ پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کی تھیں۔دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی جس میں مسلم لیگ ن 15 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی جبکہ پیپلز پارٹی نے 6 نشستیں حاصل کیں۔اب تک آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 45 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن 24 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ پیپلز پارٹی 10 نشستیں حاصل کرکے دوسرے نمبر پر ہے۔




