اگست 1, 2026

دو سال کی عمر سے پہلے بچوں کو چینی سے دور رکھنا کیا فائدہ رکھتا ہے؟

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر بچوں کو دو سال کی عمر سے پہلے چینی کم یا بالکل نہ دی جائے تو بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق ایسے افراد جنہیں ماں کے حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد ابتدائی دو برسوں میں بہت کم چینی ملی، ان میں بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ 23 فی صد کم دیکھا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ چینی کا استعمال پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس سے منسلک سمجھا جاتا ہے، جو خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔تاہم، نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ چینی کی مقدار پر قابو پانا صرف بڑوں ہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی طویل المدتی دماغی صحت کے حوالے سے اہم ہو سکتا ہے۔تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جیاژین ژینگ، جو چین کی ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کے ابتدائی مرحلے میں چینی کا استعمال محدود رکھنے سے دماغی صحت پر دیرپا مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم اس تعلق کی مزید تصدیق کے لیے اضافی تحقیقات کی ضرورت ہے۔