اگست 1, 2026

’صرف 15 سال کی ہوں، پہلی اور آخری غلطی سمجھ لیں‘، مودی مخالف بیان دینے والی لڑکی نے معافی مانگ لی

دہلی کے جنتر منتر پر 23 جولائی کو احتجاج کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے والی لڑکی نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں لڑکی نے اپنے عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کی ’پہلی اور آخری غلطی‘ ہے۔ویڈیو پیغام میں لڑکی نے کہا کہ ’’میں احتجاج کے دوران کچھ لوگوں کے بہکاوے میں آگئی اور وزیراعظم کے خلاف بہت بری باتیں کہہ دیں۔ میں پورے ملک سے معافی مانگتی ہوں۔ مجھے بہت شرمندگی ہو رہی ہے، خود کو دیکھ بھی نہیں پا رہی۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دیں۔‘‘دوسری جانب اس معاملے میں ایک اہم تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ ایف آئی آر میں لڑکی کی عمر 25 سال درج کی گئی ہے، جبکہ مبینہ معافی کی ویڈیو میں وہ خود کو صرف 15 سال کی بتا رہی ہے۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، تاہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
لڑکی کے خلاف مقدمہ کیسے درج ہوا؟
لڑکی کے مبینہ بیان کے خلاف بدھ کو نوئیڈا کے ایک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔ شکایت کی بنیاد پر نوئیڈا پولیس نے زیرو ایف آئی آر درج کی، جس کے بعد کیس کو نئی دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔
مودی نے ’بہکے ہوئے بچوں‘ کو معاف کرنے کی بات کی
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو جنتر منتر احتجاج کے دوران اپنی مرحوم والدہ کے خلاف بھی نازیبا زبان استعمال کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔انسٹاگرام پر رات گئے جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ انہیں اس بات سے بھی دکھ ہوا کہ بیٹیوں نے ایسی زبان استعمال کی، مگر انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ بہکے ہوئے بچوں کو معاف کر دیں۔