جولائی 21, 2026

حوثیوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سعودی فوجی اتحاد حرکت میں آ گیا، سخت وارننگ جاری

ریاض: سعودی عرب اور یمن میں سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے حوثی تنظیم انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی حملے کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں یمن کی حوثی تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کی مبینہ سمندری ناکہ بندی کے اعلان کی شدید مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ حوثیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں اور سعودی عرب یمن کے عوام اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔دوسری جانب یمن میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے بھی واضح کیا کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور اگر حوثیوں نے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اس کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔تنظیم کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن پر عائد مبینہ محاصرے کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صنعا ایئرپورٹ کی بندش ناقابل قبول ہے اور اس کا جواب بھی اسی نوعیت کے اقدامات سے دیا جائے گا۔واضح رہے کہ چند روز قبل حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب میزائل حملے بھی کیے، تاہم سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر باب المندب میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل بھی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔