جولائی 15, 2026

معاہدہ کرو ورنہ اگلا ہدف بجلی گھر اور پل ہوں گے، صدر ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے معاہدے کی راہ اختیار نہ کی تو آئندہ ہفتے ایران کے اہم توانائی مراکز اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایک ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔ ان کے بقول امریکا نے منگل کے روز ایران کے ساتھ رابطہ کیا اور اسے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا موقع دیا، تاہم اگر پیش رفت نہ ہوئی تو حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے ہی کافی حد تک متاثر ہو چکی ہے اور اب اس کے پاس زیادہ مزاحمت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس کے معاملے پر بھی اپنے پہلے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک یا فریق آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک ٹول ٹیکس ادا کرنے کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔