جولائی 6, 2026

غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس کی تفتیش میں بڑی پیش رفت

لاہور: لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق غیر ملکی خواتین سے زیادتی کرنے والے ملزمان کا ڈی این اے میچ ہوگیا ہے۔ زیادتی کرنے والے ملزمان میں نواز بھی شامل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملزم نواز نے سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور ملزم نواز کے اکسانے پر دیگر ملزمان نے بھی زیادتی کی۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ تفتیش کا حصہ بنا دی گئی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔واضح رہے کہ غیر ملکی خواتین کے اغوا زیادتی کیس میں ان کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق غیر ملکی خواتین کے گاڑی سے فرار سے قبل ٹریفک حادثے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ جنوبی چھاؤنی پولیس نے شہری عثمان کے بیان پر درج کیا ہے۔شہری عثمان کے مطابق اس کی گاڑی کو ہٹ کر کے 3 لاکھ روپے مالیت کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ حادثہ یکم جولائی کو پونے 8 بجے ائیرپورٹ کے قریب پیش آیا تھا۔واضح رہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی وزیر سے تعلق رکھنے والے ملزم کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کر رہی ہے جیسا دوسرے ملزمان کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کا کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا نہیں بنتا، اس لیے اس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے اندر قائم ریپ سیل اس مقدمے کا جائزہ لے رہا ہے، اسی وجہ سے سی سی ڈی اس کیس میں شامل نہیں ہے۔دریں اثنا سیشن کورٹ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے معاملے میں ایس ایچ او ڈیفنس سی کے جوڈیشل مجسٹریٹ کو دھمکانے کے مقدمے میں عدالت نے ایس ایچ او فریاد کو 10 جولائی تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔عدالت نے پولیس کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے اور ایس ایچ او فریاد علی کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج عبد القدوس نے مقدمے میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ۔واضح رہے کہ ایس ایچ اوڈیفنس سی فریاد پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر پر جا کر دھمکانے کی ایف آئی آر درج ہے ، جس پر تھانہ مصطفی آباد نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔