جولائی 3, 2026

چمگادڑ چہرے پر بیٹھنے سے 11 سالہ بچے کی چند ہفتوں بعد موت؛ ڈاکٹروں کا ریبیز سے متعلق انتباہ

کینیڈا میں 11 سالہ بچے کی ریبیز کے باعث ہونے والی افسوسناک موت کے بعد ماہرینِ صحت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص کا چمگادڑ سے براہِ راست رابطہ ہوجائے، چاہے جسم پر کاٹنے یا خراش کا کوئی واضح نشان موجود نہ بھی ہو، تب بھی فوری طور پر طبی معائنہ اور علاج کرانا انتہائی ضروری ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 2024 کے موسمِ گرما میں کینیڈا کے شمالی صوبے اونٹاریو میں پیش آیا۔ اس کیس کی تفصیلات پیر کو کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل (CMAJ) میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس کیس کو شائع کرنے کا مقصد عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق بچہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک کاٹیج میں مقیم تھا، جہاں وہ نیند سے اس وقت بیدار ہوا جب ایک چمگادڑ اس کی ناک اور منہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ بچے نے فوراً اسے ہٹا دیا، جبکہ اس کے والد نے چمگادڑ کو ایک برتن میں پکڑ کر بعد میں باہر چھوڑ دیا۔چونکہ بچے کے جسم پر نہ تو کاٹنے کا کوئی نشان موجود تھا اور نہ ہی خراش دکھائی دی، جبکہ چمگادڑ کا رویہ بھی غیر معمولی محسوس نہیں ہوا، اس لیے اہلِ خانہ نے فوری طبی امداد حاصل نہیں کی اور نہ ہی ریبیز سے بچاؤ کے لیے پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) علاج شروع کروایا۔تقریباً 19 روز بعد بچے کے چہرے کے ایک حصے میں سن ہونا، جھنجھناہٹ اور سوجن جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ ابتدائی طور پر ڈاکٹروں نے ان علامات کو بیلز پالسی یا منہ کے وائرل انفیکشن سے ملتی جلتی کیفیت سمجھا، تاہم چند ہی دنوں میں اس کی طبیعت تیزی سے بگڑ گئی۔بعد ازاں بچے کو شدید بخار، نگلنے میں دشواری، ذہنی الجھن اور نظر کے دھوکے (ہیلوسینیشنز) ہونے لگے، جس کے بعد اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) منتقل کیا گیا۔ لیبارٹری ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ وہ چمگادڑ سے منتقل ہونے والے ریبیز وائرس سے متاثر ہو چکا تھا۔ اسپتال میں داخل ہونے کے 17 روز بعد بچے کا انتقال ہو گیا۔امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق امریکا میں انسانوں میں ریبیز سے ہونے والی زیادہ تر اموات کی بنیادی وجہ چمگادڑیں ہیں، کیونکہ ان کے کاٹنے یا خراش کے نشانات اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ اکثر لوگوں کی نظر میں نہیں آتے۔ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی شخص کے ساتھ چمگادڑ کا کوئی ایسا واقعہ ہو تو اسے فوری طور پر آزاد نہ کیا جائے، بلکہ پہلے متعلقہ صحت کے حکام سے رابطہ کیا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کا ریبیز ٹیسٹ کیا جا سکے۔ڈاکٹروں نے زور دے کر کہا ہے کہ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، تاہم اگر ممکنہ وائرس کے رابطے کے فوراً بعد ویکسین اور ریبیز امیون گلوبیولن پر مشتمل علاج شروع کر دیا جائے تو اس بیماری سے مؤثر طور پر بچاؤ ممکن ہے۔ماہرین کے مطابق کینیڈا میں انسانی ریبیز کے کیسز انتہائی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ کینیڈین ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 1924 سے اب تک ملک میں ریبیز سے صرف 28 انسانی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جس کی بڑی وجہ ویکسینیشن پروگرام اور بروقت علاج ہے۔ اس کے باوجود شمالی امریکا میں چمگادڑیں اب بھی انسانوں میں ریبیز وائرس منتقل ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں، اس لیے ان سے کسی بھی قسم کے براہِ راست رابطے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔