ایران نے بحرین میں امریکا کی زیر قیادت منعقد ہونے والے علاقائی سکیورٹی اجلاس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور انتظام سے متعلق فیصلے کسی غیر ملکی فوجی اتحاد کے ذریعے نہیں کیے جا سکتے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں بحرین میں ہونے والے اس اجلاس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی خودمختاری اور علاقائی حقیقت کا حصہ ہے، اس لیے اس کے انتظام کا اختیار ایران کے پاس ہے، نہ کہ امریکی سینٹرل کمان کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ بحرین میں 12 ممالک کی شرکت سے ہونے والا فوجی نوعیت کا اجلاس خلیج فارس یا آبنائے ہرمز کے لیے کوئی قانونی یا مستقل سکیورٹی نظام قائم نہیں کر سکتا۔کاظم غریب آبادی کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف اس وقت ممکن ہے جب بیرونی مداخلت کا خاتمہ ہو، امریکا اپنی فوجی موجودگی کم کرے، تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور خطے کی نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کو تسلیم کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ خطے کی سلامتی کسی بیرونی فوجی چھتری کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون، اعتماد اور سفارت کاری کے ذریعے یقینی بنائی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ بحرین میں حال ہی میں امریکا کی حمایت سے ایک علاقائی سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں 12 ممالک کے نمائندوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ، علاقائی سلامتی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور سکیورٹی معاملات پر سرگرمیاں جاری ہیں۔




