جولائی 2, 2026

وفاقی دارالحکومت میں زمینوں کی خریدو فروخت ، رجسٹریشن ، انتقال سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نےشاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی زمین کی خرید و فروخت اور انتقال پر عائد انتظامی پابندی غیر قانونی قرار دے دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نےشاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی زمین کی خرید و فروخت اور انتقال پر عائد انتظامی پابندی غیر قانونی قرار دے دی، جسٹس محمد آصف نے فضل عباس نامی شہری کی درخواست میں تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔درخواست گزار شہری کی جانب سے کیس کی پیروی کاشف علی ملک نے کی ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ جائیدادوں کی رجسٹریشن اور انتقال کے معاملات قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق چلائیں، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کو روکنے کی آڑ میں عام شہریوں کے بنیادی ملکیتی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔عدالت نے قرار دیا کہ سی ڈی اے کے خط کی بنیاد پر لگائی گئی عمومی پابندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سب رجسٹرار اور ریونیو حکام کو جاری کردہ زبانی احکامات ماورائے قانون ہیں، انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے پرانے عدالتی حکم کے دائرہ کار کو خود ہی تشریح کر لی، سابقہ عدالتی حکم صرف غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی تعمیرات اور خرید و فروخت روکنے تک محدود تھا۔عدالت نے کہا کہ ایگزیکٹو عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرنے کے پابند ہیں، وہ انتظامی ہدایات کے ذریعے عدالتی احکامات میں ردوبدل نہیں کر سکتے، سی ڈی اے آرڈیننس 1960 اور اسلام آباد زوننگ ریگولیشنز 1992 ڈپٹی کمشنر کو جائیداد منجمد کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔آئین کے تحت شہریوں کے حقوق کو متاثر کرنے والے ہر انتظامی اقدام کے پیچھے واضح قانون کا ہونا لازمی ہے، زمین کے انتقال پر مکمل پابندی آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت دیے گئے جائیداد رکھنے اور فروخت کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اصل خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے بجائے پورے علاقے کے قانون پسند شہریوں پر پابندی لگانا امتیازی سلوک ہے، غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں روکنے کے لیے شہریوں کے حقوق پر کم سے کم اثر انداز ہونے والا راستہ اپنایا جانا چاہیے تھا، درخواست گزار شاہ اللہ دتہ کے مستقل رہائشی ہیں، جن کی والدہ ہسپتال میں گردوں کے عارضے کے باعث زیر علاج ہیں۔فیصلے کے مطابق جائیداد منجمد کرنے سے شہری اپنی بیمار والدہ کے طبی اخراجات اور مالی معاملات چلانے سے قاصر رہے، جو کہ سراسر زیادتی ہے، انتظامیہ نے متاثرہ افراد کو کوئی نوٹس دیا اور نہ ہی سماعت کا موقع فراہم کیا، یہ فیصلہ سی ڈی اے کو غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی سے نہیں روکتا۔عدالت نے کہا کہ ماسٹر پلان کے تحفظ، زوننگ ریگولیشنز کے نفاذ اور غیر قانونی تعمیرات گرانے کے لیے متعلقہ حکام کے پاس پورے اختیارات موجود ہیں، حکام غیر قانونی اقدامات کے خلاف کارروائی ضرور کریں، مگر اس کے لیے قانونی طریقہ کار اپنایا جائے۔