اسلام آباد: سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن (سی سی جی) کے صدر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے، اور اس کا مکمل احترام اور تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے، انہوں نے تجویز دی ہے کہ چین کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے۔سیمینار سے خطاب میں ان کا کہناتھا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کی بات کی تھی تو انہوں نے بھارتی ٹیلی وژن چینلز کو دیئے گئے انٹرویوز میں اس موقف کی کھل کر مخالفت کی تھی اوربھارت کو اس راستے پر نہ چلنے کا مشورہ دیا تھا۔پانی کی فراہمی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے اور جنگ کے دوران بھی کروڑوں افراد کے لیے پانی کا بہائوروکنا جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔دریائے سندھ کا منبع ہمالیائی خطہ ہے،کسی بھی ملک کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے وہ خود اپنے خلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شقوں کے مطابق دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بلا تعطل بہائو کو یقینی بنایا جائے،کم از کم آٹھ ممالک ایسے ہیں جو سطح مرتفع تبت سے نکلنے والے دریائوں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں اس لیے ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی حمایت حاصل ہو۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل خطے میں امن و استحکام کے لیے اسی سمت میں پیش رفت جاری رکھتے ہیں تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں۔




