کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزمرہ کے معمولات میں معمولی تبدیلیوں سے بھی صحت پر منفی یا مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر آپ نہار منہ ٹھنڈا پانی پیتے ہیں تو اس سے صحت پر حیران کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ویسے تو پانی ٹھنڈا ہو یا سادہ، دونوں سے جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے میں میں مدد ملتی ہے۔مگر صبح اٹھ کر سب سے پہلے ٹھنڈا پانی پینا جسم پر مختلف اثرات مرتب کرتا ہے۔
جسم میں پانی کی مناسب مقدار
رات کی طویل نیند کے بعد صبح اٹھنے پر ہمارا جسم کسی حد تک پانی کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔یہ معمولی ڈی ہائیڈریشن بھی جسمانی توانائی میں کمی، نقاہت، توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات، سر درد اور دیگر مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔اس کے مقابلے میں پانی پینے سے جسم کو تازگی کا احساس ہوتا ہے جبکہ جسم میں پانی کی سطح بہتر ہوتی ہے۔نظام ہاضمہ کو فائدہ ہوتا ہے
دن کا آغاز پانی سے کرنے سے نظام ہاضمہ کو نرمی سے متحرک کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سیال جیسے ٹھنڈا پانی غذائی نالی میں موجود فضلے اور خوراک کو حرکت میں دینے میں مدد فراہم کرتا ہے، غذائی نالی کے نظام کو جگاتا ہے اور دن بھر ہاضمے کے افعال کو مؤثر انداز سے کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔پانی سے آنتوں کے افعال بھی بہتر ہوتے ہیں اور قبض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق پانی کم پینے سے قبض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
جسمانی توانائی اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے
جسم میں پانی کی کمی سے تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے جبکہ صبح سب سے پہلے پانی پینے سے جسمانی توانائی کی سطح اور دماغی صحت بشمول یادداشت اور توجہ بہتر ہوتی ہے۔جسمانی توانائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک گلاس ٹھنڈے پانی سے دماغ کی جانب سے خون کا بہاؤ بڑھتا ہے، دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں جبکہ ذہنی ہوشیاری میں اضافہ ہوتا ہے۔کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ پانی کم پینے سے جسمانی ردعمل کی رفتار سست ہو جاتی ہے جبکہ یادداشت اور توجہ جیسی صلاحیتوں کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
میٹابولزم صحت مند ہوتا ہے
صبح نہار منہ ٹھنڈا پانی پینے سے میٹابولزم کی رفتار میں معمولی تیزی آتی ہے۔
ٹھنڈا پانی کچھ جسمانی توانائی خرچ کرتا ہے تاکہ جسم کا اندرونی درجہ حرارت برقرار رہ سکے جس کے نتیجے میں کیلوریز جلنے کا عمل کچھ تیز ہو جاتا ہے۔دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی پینے سے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کھانے سے قبل پانی پینے سے کم کیلوریز کو جزوبدن بنانے میں مدد ملتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔




