بیشتر افراد ای سگریٹس کا استعمال اس خیال سے کرتے ہیں کہ اس سے صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ ای سگریٹس یا ویپنگ میں موجود نکوٹین سے پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کی تحقیق میں ای سگریٹس کے استعمال سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔اس حوالے سے اب تک ہونے والے تحقیقی کام کا تجزیہ کیا گیا اور دریافت ہوا کہ ای سگریٹس کا استعمال بھی کینسر کا شکار بناسکتا ہے۔تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ ای سگریٹس براہ راست پھیپھڑوں یا منہ کے کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔محققین نے بتایا کہ یہ اب تک اس حوالے سے ہونے والا سب سے جامع تحقیقی کام ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ای سگریٹس سے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک ہونے والے تمام تر تحقیقی کام کا جائزہ لینے پر دریافت ہوا کہ یہ خیال درست نہیں کہ ای سگریٹس سے کینسر کا خطرہ لاحق نہیں ہوتاان کا کہنا تھا کہ ہمارا تحقیقی کام معیاری ہے مگر ان نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔محققین کے مطابق ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ ای سگریٹس سے تمباکو نوشی کو ترک کرنے اور کینسر سے بچنے میں مدد ملتی ہے مگر یہ خیال درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے شواہد کافی مضبوط ہیں، مگر مکمل تصدیق کے لیے انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہوگی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موجودہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ای سیگریٹس کے استعمال سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 4 گنا بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل Carcinogenesis میں شائع ہوئے۔




