اب آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی تیزی سے سادہ چیٹ بوٹس سے ایجنٹس کی جانب بڑھ رہی ہے اور بھی مزید پیشرفت جلد متوقع ہے۔ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ بتدریج اسے آٹومیشن میں تبدیل کر دیا جائے گا۔مگر اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین اور کمپنی کی سائنسی ٹیم کے سربراہ جیکب پیکوکی کے مطابق اے آئی تحقیق کا مقصد ہر چیز کو آٹومیٹ بنانا نہیں بلکہ اے آئی کی مدد سے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ان کی جانب سے جاری دستاویز میں اے آئی کے حوالے سے مستقبل کے منصوبوں پر بات کی گئی۔دستاویز میں اوپن اے آئی کی جانب سے 3 شعبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی بات کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک آٹومیٹڈ اے آئی ریسرچر تیار کیا جائے گا، معشیت کو تیز کیا جائے گا جبکہ دنیا کے ہر فرد کو ایک پرسنل آرٹی فیشل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) اسسٹنٹ فراہم کیا جائے۔اوپن اے آئی کا تخمینہ ہے کہ مارچ 2028 تک اے آئی سسٹمز پر تحقیق میں نمایاں پیشرفت کی جائے گی جبکہ اے جی آئی کے بعد کی دنیا کی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔اس دستاویز میں یہ اشارے بھی دیے گئے کہ ایک اے آئی جی اسسٹنٹ کیسا ہوگا اور ایک آٹومیٹڈ اے آئی ریسرچر اے جی آئی کے لیے راستہ کھولے گا۔واضح رہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے جلد کمپنی کے حصص عوام کو فروخت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔




