ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فش آئل سپلیمنٹس الزائمر کے مرض سے بچاؤ میں مؤثر ثابت نہیں ہوتے، جس سے اس عام تصور کو چیلنج کیا گیا ہے کہ اومیگا 3 سپلیمنٹس یادداشت کو بہتر بنانے اور الزائمر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہیں۔طبی جریدے ای بائیو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق فش آئل سپلیمنٹس دماغی صحت کے لیے توقع کے مطابق فوائد فراہم نہیں کرتے۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنس دانوں نے کی، جس میں 55 سے 80 سال عمر کے 365 افراد کو شامل کیا گیا جو الزائمر کے مرض کے نسبتاً زیادہ خطرے سے دوچار تھے۔مطالعے کے دوران شرکاء کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو دو سال تک روزانہ زیادہ مقدار میں ڈی ایچ اے (DHA) پر مشتمل اومیگا 3 سپلیمنٹ دیا گیا، جبکہ دوسرے گروپ کو پلیسبو (غیر مؤثر دوا) فراہم کی گئی۔ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا کہ فش آئل میں موجود اہم اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ڈی ایچ اے کامیابی سے دماغ تک پہنچ گیا، چھ ماہ بعد دماغ کے گرد موجود سیال میں ڈی ایچ اے کی مقدار تقریباً 17 فیصد بڑھ گئی۔تاہم اس اضافے کے باوجود محققین کو یادداشت، ذہنی کارکردگی یا مجموعی دماغی صحت میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی، اسی طرح دماغی اسکینز سے بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ فش آئل نے الزائمر سے متاثر ہونے والے دماغی حصوں کے سکڑاؤ کی رفتار کو کم کیا ہو۔تحقیق کے سربراہ نے کہا کہ نتائج اس بات کی حمایت نہیں کرتے کہ فش آئل سپلیمنٹس الزائمر کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغی تنزلی اور ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سپلیمنٹس پر انحصار کرنے کے بجائے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا زیادہ اہم ہے، جس میں باقاعدہ جسمانی سرگرمی، معیاری نیند اور متوازن غذا شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق اگرچہ فش آئل کے دیگر طبی فوائد ہو سکتے ہیں، لیکن موجودہ تحقیق کے مطابق اسے الزائمر سے بچاؤ کا یقینی ذریعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔




