فٹنس ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے وزن جانچنے والے آلے پر نظر آنے والا ہر اتار چڑھاؤ اصل چربی میں کمی یا اضافے کی علامت نہیں ہوتا بلکہ جسم کا وزن دن بھر مختلف وجوہات کی بنا پر بدلتا رہتا ہے۔فٹنس ماہرین کے مطابق غلط وقت پر وزن ناپنے سے غلط نتیجہ سامنے آ سکتا ہے جس کی وجہ سے لوگ غیر ضروری طور پر پریشان ہو سکتے ہیں۔ایسی صورتِ حال میں ناصرف وزن میں کمی کے خواہشمند افراد مزید کریش ڈائیٹ پلان اختیار کر لیتے ہیں یا پھر ڈپریشن کا شکار ہو کر کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک عمل ہے۔ماہرین نے یہاں ایسے اوقات بتائے ہیں جن کے دوران وزن جانچنا درست نہیں سمجھا جاتا۔
کھانے یا پینے کے فوراً بعد
کھانا اور پانی جسم میں موجود ہونے کی وجہ سے وزن عارضی طور پر بڑھ جاتا ہے۔جسم میں پانی کی کمی یا زیادتی سے وزن وقتی طور پر متاثر ہوتا ہے۔
ماہواری کے دوران
ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے جسم میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے وزن بڑھا ہوا دکھائی دے سکتا ہے۔
ورزش کے فوراً بعد
پسینہ آنے کی وجہ سے جسم سے پانی کم ہو جاتا ہے لیکن اس کمی کو چربی میں کمی نہیں مانا جاتا۔
دن کے مختلف اوقات میں
کھانا کھانے، پانی یا دیگر مشروبات پینے اور سرگرمیوں کی وجہ سے وزن مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
زیادہ نمکین کھانے کے بعد
نمک جسم میں پانی روک لیتا ہے جس سے وزن بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔
زیادہ کاربوہائیڈریٹ یا بسیار خوری کے بعد
ریفائن شدہ یا تلی ہوئی غذاؤں کے استعمال کے بعد جسم میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے وزن وقتی طور پر بڑھ جاتا ہے۔فٹنس ماہرین نے بتایا ہے کہ وزنی کپڑے، جوتے اور زیورات بھی وزن میں فرق ڈال سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق صبح جاگنے کے بعد اور ناشتے سے قبل کا دورانیہ وزن جانچنے کے لیے بہترین وقت ہوتا ہے جب آپ واش روم استعمال کر چکے ہوں اور کچھ کھایا یا پیا نہ ہو۔ہر بار ایک ہی طریقہ اپنانا زیادہ درست اور مستقل نتائج دیتا ہے جبکہ بار بار مختلف اوقات پر وزن دیکھنا غلط اندازہ دے سکتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔




