جون 13, 2026

نوجوان خواتین میں شوگر کی تشخیص میں خطرناک اضافہ، حمل کے بعد نگرانی کی کمی بڑا سبب قرار

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 2017ء سے 2024ء کے درمیان 40 سال سے کم عمر کی خواتین میں ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص میں 47 فیصد جبکہ 40 سے 79 سال کی خواتین میں 22 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہےبرطانوی جرنل ’ڈائیبٹیز یوکے‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے 7 سال پر مبنی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان مردوں میں یہ شرح 34 فیصد بڑھی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمر افراد میں یہ بیماری زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے اور دل کے دورے اور فالج جیسے خطرات جَلد پیدا کر سکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس اس اضافے کی بڑی وجہ ہے، اس کیفیت کا شکار خواتین میں بعد کے چند برسوں میں شوگر لاحق ہوجانے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے لیکن نگرانی اور علاج میں واضح کمی پائی گئی ہے۔
رپورٹ کے اہم اعداد و شمار:
تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حمل کے دوران ذیابیطس کے بعد 5 سال میں 11 فیصد خواتین میں ابتدائی شوگر کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔10 سال میں 15 فیصد خواتین میں مستقل ذیابیطس ٹائپ 2 ہو جاتی ہے۔صرف 57 فیصد خواتین کو سالانہ خون میں شوگر کے مخصوص ٹیسٹ کی سہولت ملتی ہے جبکہ 33 فیصد سے زائد خواتین نے بتایا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اِنہیں طبی نظام کی جانب سے نظر انداز کیا گیا۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران ذیابیطس کے بعد مناسب نگرانی، طرزِ زندگی میں بہتری اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ طبی ماہرین نے صحت کے نظام میں بہتری اور خاص طور پر کم آمدنی اور اقلیتی طبقات تک بہتر رسائی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔