جون 5, 2026

فرینچ فرائز مسلسل کھانا ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتا ہے: تحقیق میں انکشاف

طویل دورانیے پر مبنی ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آلو اپنی اصل حالت میں نہیں بلکہ تلی ہوئی شکل میں صحت کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر تلے ہوئے آلوؤں کا مسلسل استعمال ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔تقریباً 37 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں 2 لاکھ 5 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا جن میں وقت کے ساتھ 22 ہزار سے زائد افراد میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔تحقیق کے مطابق ہفتے میں 3 مرتبہ آلو کی چپس (فرینچ فرائز) کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ اسی مقدار میں ابلے ہوئے یا بھاپ میں پکائے ہوئے آلو کھانے سے کوئی نمایاں خطرہ سامنے نہیں آیا۔طبی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ آلو نہیں بلکہ اسے ڈیپ فرائی کے عمل سے گزارنا ہے جس سے چکنائی اور کیلوریز میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جسم میں انسولین کے نظام پر منفی اثر پڑتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ صرف نقصان دہ غذاؤں سے پرہیز کافی نہیں بلکہ ان کی جگہ کون سی غذا استعمال کی جا رہی ہے، یہ بھی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ماہرین نے ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے چند اہم غذائی متبادل تجویز کیے ہیں۔
فائبر سے بھرپور غذائیں
تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص ہفتے میں فرنچ فرائز کی 3 خوراکیں کم کر کے ان کی جگہ فائبر سے بھرپور غذائیں استعمال کرے تو ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 8 فیصد کم ہو سکتا ہے۔فائبر سے بھرپور غذائیں آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے خون میں شکر کی سطح یکدم نہیں بڑھتی۔اس کے علاوہ ان غذاؤں میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات بھی زیادہ مقدار میں موجود ہوتی ہیں جو جسم کو انسولین کے مؤثر استعمال میں مدد دیتی ہیں۔تحقیق میں سب سے نمایاں نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ اگر ہفتے میں 3 مرتبہ کھائی جانے والی تلی ہوئی آلو کی چپس کو غیر ریفائن شدہ اناج سے تبدیل کر دیا جائے تو ذیابیطس کا خطرہ 19 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔یہ کمی اس لیے دیکھی گئی کیونکہ فرنچ فرائز میں چکنائی، کیلوریز اور ایسے مرکبات زیادہ ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ انسولین کی مزاحمت کو بڑھا سکتے ہیں جبکہ غیر ریفائن شدہ اناج جسم میں شکر کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
سفید چاول سے متعلق اہم انتباہ
تحقیق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ابلے ہوئے یا بیک کیے ہوئے آلو کو سفید چاول سے تبدیل کرنا فائدہ مند نہیں، اس کے برعکس ایسا کرنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق سفید چاول ایک ریفائن شدہ کاربوہائیڈریٹ ہے جو جَلد ہضم ہو جاتا ہے اور خون میں گلوکوز کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے آلو کے مقابلے میں بہتر متبادل نہیں سمجھا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن اور قدرتی غذائیں اپنانے سے طویل مدت میں ذیابیطس اور انسولین مزاحمت کے خطرات نمایاں طور پر کم کیے جا سکتے ہیں۔طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ تلی ہوئی اشیاء سے اجتناب کیا جائے، گھر میں آلوؤں کو ابال کر یا بھاپ میں پکا کر استعمال کیا جائے اور غذا میں غیر ریفائن شدہ اناج کو ترجیح دی جائے تاکہ ذیابیطس کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔