مئی 23, 2026

چین میں دنیا کے پہلے زیرآب ڈیٹا سینٹر نے کام شروع کر دیا

چین میں زیرآب تعمیر کیے جانے والے ایک ڈیٹا سینٹر نے کمرشل آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جس کے سرور موڈیولز سمندر کے اندر کام کر رہے ہیں۔اس پراجیکٹ میں آف شور ونڈ جنریشن کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ زیرسمندر کمیپیوٹنگ انفرا اسٹرکچر کے لیے بجلی کی ضروریات کو کم کیا جاسکے۔اسے دنیا کا پہلا زیرآب ڈیٹا سینٹر قرار دیا گیا ہے جو شنگھائی کے قریب لیانگانگ اسپیشل ایریا میں تعمیر کیا گیا جس کے اندر 2 ہزار سرورز موجود ہیں۔یہ ڈیٹا سینٹر سمندر کی سطح سے لگ بھگ 35 میٹر گہرائی میں موجود ہے۔چینی حکام اور ایک نجی کمپنی ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر 22 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز مالیت کا ڈیٹا سینٹر تعمیر کیا ہے۔اس میں موجود سرورز آرٹی فیشل انٹیلی جنس ورک لوڈز، 5 جی سروسز اور دیگر آپریشنز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔روایتی ڈیٹا سینٹرز کے برعکس اس ڈیٹا سینٹر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سمندری پانی کو استعمال کیا جائے گا۔سمندری پانی سے ڈیٹا سینٹر کو ٹھنڈا رکھنے سے توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی۔خیال رہے کہ سطح زمین پر موجود ڈیٹا سینٹرز کو اپنے افعال کے لیے بہت زیادہ مقدار میں بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔موجودہ عہد میں اب بیشتر ویب سائٹس اور دیگر ایپس کے لیے ڈیٹا سینٹرز پر انحصار کیا جاتا ہے جبکہ اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ڈیٹا سینٹرز جب متحرک ہوتے ہیں تو وہ بہت زیادہ حرارت خارج کرتے ہیں جس کے باعث انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے کولنگ سسٹمز کی ضرورت ہوتی ہے جن کے لیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔