پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 26 بحری جہازوں کی آمدورفت ان کی نگرانی اور اجازت سے مکمل کی گئی۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق آئی آر جی سی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطے اور اجازت کے بعد ہی سفر کر رہے ہیں۔ایران کی خلیجی آبنائے اتھارٹی نے ایک نیا بحری نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے مخصوص علاقوں کو ’کنٹرولڈ میری ٹائم زون‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی جہاز کو ایرانی اجازت کے بغیر ان علاقوں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔رپورٹس کے مطابق یہ کنٹرولڈ زون ایران کے علاقے کوہِ مبارک سے لے کر فجیرہ کے جنوب تک اور جزیرہ قشم سے ام القوین تک پھیلا ہوا ہے۔یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت محدود کردی تھی، جس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی برآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، اسی لیے اس اہم گزرگاہ میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل اور توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔




