مئی 13, 2026

عالمی ادارۂ صحت کا انخلاء مکمل، ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز شپ ٹینیریف سے روانہ

ٹینیریف کے قریب ہنٹا وائرس پھیلنے کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بننے والا ڈچ سیاحتی بحری جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ عالمی ادارۂ صحت کی نگرانی میں انخلاء مکمل ہونے کے بعد روانہ ہو گیا۔عالمی ادارۂ صحت اور ہسپانوی حکام نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مسافروں اور عملے کا طبی معائنہ، اسکریننگ اور کورنٹائین رکھنے کا عمل مکمل کیا۔حکام کے مطابق اینڈیز ہنٹا وائرس دنیا کا واحد ہنٹا وائرس ہے جو محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے، یہ وئراس ہنٹا کی دیگر اقسام سے کافی مختلف اثرات رکھتا ہے۔واضح رہے کہ جہاز میں اینڈیز ہنٹا وائرس کے متعدد کیسز سامنے آئے تھے جبکہ اس وائرس سے کم از کم 3 افراد ہلاک اور کئی متاثر ہو چکے ہیں۔عالمی ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتِ حال ’کوویڈ‘ جیسی نہیں کیونکہ ہنٹا وائرس عام فضائی رابطے سے نہیں پھیلتا۔طبی ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً قریبی اور طویل رابطے سے منتقل ہوتا ہے۔جہاز سے اترنے والے تمام مسافروں اور عملے کی کئی ہفتوں تک نگرانی جاری رہے گی کیونکہ وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں 1 سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔مختلف ممالک میں اب رابطہ ٹریسنگ، طبی نگرانی، قرنطینہ اور بین الاقوامی تعاون کا عمل جاری ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، جسم درد، تھکن، سر درد، متلی اور قے شامل ہیں جبکہ شدید صورت میں سانس کی تکلیف بھی ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری نگرانی اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے اس وائرس کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے تاہم آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے۔