اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا ہے۔ پاکستان کا کردار تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی، جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔وزیراعظم نے اس پیش رفت پر پاکستانی قوم اور عالمی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن، مکالمے اور دانش مندی کی فتح ہے۔انہوں نے اپنے قائد میاں نواز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد اور یکجہتی نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔شہباز شریف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر اور ایرانی صدر کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت مشکل حالات میں تدبر، دانش اور صبر کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں آج دنیا امن کے ایک عظیم دن کی گواہ بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے دنیا نے امن کا ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور چین کے صدر شی جن پنگ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے میں بھرپور تعاون اور مشاورت فراہم کی۔انہوں نے یورپ، برطانیہ اور پاکستان کے دیگر دوست ممالک کا بھی اس موقع پر شکریہ ادا کیا۔شہبا زشریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج جو عزت اور وقار عطا کیا ہے، قومیں صدیوں اس کی تلاش میں رہتی ہیں۔ جنگ کے شعلوں کو روکنے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا ۔ تاریخ ہمیشہ اس کردار کو یاد رکھے گی۔وزیراعظم نے ارکان اسمبلی اور پوری پاکستانی قوم کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی باعث فخر ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عظیم اور بہادر فرزند فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کیے بغیر یہ تقریر نامکمل رہے گی۔ انہوں نے جنگ کے شعلے بجھانے اور امن کے قیام کے لیے شب و روز محنت کی، متعدد مشکل مراحل اور نشیب و فراز کے باوجود ثابت قدمی، مسلسل مشاورت اور کاوشوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں گزشتہ شب جنگ بندی کا اعلان ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ اگر خلوص، استقامت اور دانش مندی کا یہ سفر جاری نہ رہتا تو دنیا میں امن کا خواب بکھر سکتا تھا اور جنگ مزید تباہی کا سبب بنتی۔شہباز شریف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دن رات امن عمل کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے ایران کے حوالے سے اہم امور نہایت ذمہ داری اور لگن کے ساتھ انجام دیے۔اس کے ساتھ انہوں نے وزارت خارجہ اور دیگر اداروں و محکموں کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا اور عالمی معیشت متاثر ہوئی ، پاکستان کی معیشت پر بھی دباؤ آیا، تاہم پاکستانی قوم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بروقت فیصلوں اور پیش بندی کے ذریعے عوام کو مہنگائی کے ممکنہ اثرات سے بچانے کی کوشش کی، جس میں وزرائے اعلیٰ کا کردار بھی قابل ستائش رہا۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے عالمی معاشی ثمرات کو بروئے کار لا کر ہر پاکستانی کی دہلیز تک ریلیف اور فوائد پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی قیادت اس مقصد کے حصول تک کام جاری رکھے گی اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک اپنی ذمہ داری پوری نہ کر لے۔




