مئی 30, 2026

سائنس دانوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، انسولین نہ بڑھانے والی قدرتی چینی تیار

سائنس دانوں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایشریشیا کولی (E. coli) نامی بیکٹیریا کو ایسی ’’چھوٹی فیکٹریوں‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے جو عام گلوکوز کو براہ راست ایک نایاب اور صحت مند چینی ’’ڈی-ٹیگاٹوز‘‘ (D-tagatose) میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ٹیگاٹوز عام چینی کی طرح میٹھی ہے لیکن اس میں کیلوریز صرف ایک تہائی ہیں اور یہ خون میں شوگر یا انسولین کی سطح پر اثر انداز نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین ہے۔اس تحقیق کی اصل بنیاد ایک قدرتی حیاتیاتی راستے (Leloir pathway) کو الٹا چلانا ہے، جو کہ پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ ماہرین نے ایک خاص انزائم (DdGal1Pase) دریافت کیا ہے جو اس عمل کو الٹی سمت میں چلا کر گلوکوز سے ٹیگاٹوز بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ نیا طریقہ پرانے طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا اور مؤثر ہے، جس سے مستقبل میں چینی کے اس صحت مند متبادل کی بڑے پیمانے پر سستی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔انسانی صحت اور غذائی صنعت کے بدلتے ہوئے رجحانات نے قدرتی اور کم کیلوری والے مٹھاس (Sweeteners) کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر ایسے متبادل جو ذائقے میں چینی (Sucrose) کے مشابہ ہوں لیکن جن کا گلیسیمک انڈیکس (Glycemic Index) کم ہو، محققین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ڈی-ٹیگاٹوز ایک ایسا ہی نایاب شکر ہے جو اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر ایک مثالی میٹھا سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، قدرت میں اس کی قلیل موجودگی اور صنعتی سطح پر اس کی مہنگی تیاری نے اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ سیل رپورٹس فزیکل سائنس (Cell Reports Physical Science) میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق نے اس مسئلے کا ایک انقلابی حل پیش کیا ہے، جس میں میٹابولک انجینئرنگ کے ذریعے ایشریشیا کولی (Escherichia coli) کو ایک ایسے بائیو فیکٹری میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو وافر مقدار میں دستیاب گلوکوز کو براہ راست ٹیگاٹوز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈی-ٹیگاٹوز ایک نایاب ہیکسوز شکر ہے جو ڈی-فرکٹوز کا C4 ایپی مر (Epimer) ہے۔ اس کی مٹھاس عام چینی کے مقابلے میں تقریباً 92 فی صد ہے، لیکن اس کی کیلوریز صرف 1.5 کلو کیلوری فی گرام ہیں، جو کہ سوکروز (sucrose) کی کیلوریز کا صرف ایک تہائی حصہ بنتی ہیں۔ امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے ’’عام طور پر محفوظ‘‘ قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ خوراک اور مشروبات میں استعمال کے لیے بہترین طور پر موزوں ہے۔ٹیگاٹوز کا میٹابولزم عام چینی سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا صرف 20 فی صد حصہ چھوٹی آنت میں جذب ہوتا ہے، جب کہ باقی حصہ بڑی آنت میں موجود بیکٹیریا کے ذریعے خمیر کے عمل سے گزرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز اور انسولین کی سطح پر نہ ہونے کے برابر اثر پڑتا ہے، جو اسے ذیابیطس کے مریضوں اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔ مزید برآں، یہ دانتوں کی خرابی کا باعث بھی نہیں بنتا اور پری بائیوٹک (Prebiotic) فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔ٹیگاٹوز کی صنعتی تیاری اب تک بنیادی طور پر دو طریقوں سے کی جاتی رہی ہے: کیمیائی اور انزیمیٹک۔ ان دونوں طریقوں میں لیکٹوز سے حاصل شدہ گیلیکٹوز (Galactose) کو بطور خام مال استعمال کیا جاتا ہے۔کیمیائی طریقہ: اس میں گیلیکٹوز کو الکلائن کیٹالسٹ کی موجودگی میں ٹیگاٹوز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل پیچیدہ پیوریفیکیشن کے مراحل اور کیمیائی فضلے کی پیداوار کی وجہ سے مہنگا اور غیر پائیدار ہے۔انزیمیٹک طریقہ: اس میں ایل-ارابینوز آئیسومریز (L-arabinose isomerase – LAI) انزائم کا استعمال کرتے ہوئے گیلیکٹوز کی آئیسومرائزیشن کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ کیمیائی عمل سے بہتر ہے لیکن یہ ایک ریورسیبل (Reversible) ردعمل ہے جس میں توازن (Equilibrium) اکثر زیر خامرہ (substrate) کی طرف جھکا رہتا ہے، جس سے مجموعی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ گیلیکٹوز خود ایک مہنگا اور کم دستیاب شکر ہے۔ لیکٹوز (جو وہے پاؤڈر Whey Powder سے حاصل ہوتا ہے) میں گلوکوز اور گیلیکٹوز دونوں شامل ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ لیکٹوز کے استعمال سے 50 فی صد کاربن کا نقصان ہوتا ہے کیوں کہ صرف گیلیکٹوز ہی ٹیگاٹوز میں تبدیل ہو پاتا ہے۔ اسی لیے ایک ایسے طریقے کی ضرورت تھی جو براہ راست گلوکوز کو استعمال کر سکے، کیوں کہ گلوکوز وافر اور سستا ہے۔لیلوئر پاتھ وے (Leloir Pathway) فطری طور پر گیلیکٹوز کے میٹابولزم کا بنیادی راستہ ہے، جو گیلیکٹوز کو گلوکوز-1-فاسفیٹ (G1P) میں تبدیل کرتا ہے تاکہ اسے گلائکولیسس (Glycolysis) میں استعمال کیا جا سکے۔ اس راستے میں چار اہم انزائمز شامل ہوتے ہیں:
گیلیکٹوز میوٹارو ٹیز (GALM)
گیلیکٹو کائنیز (GalK)
گیلیکٹوز-1-فاسفیٹ یوریڈائل ٹرانسفیریز (GalT)
یو ڈی پی-گیلیکٹوز 4-ایپی مریز (GalE)
نارمل حالات میں یہ پاتھ وے گیلیکٹوز کو توڑنے (Catabolism) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس حالیہ تحقیق کا کمال یہ ہے کہ محققین نے اس پاتھ وے کو الٹا (Reverse) چلا کر گلوکوز سے گیلیکٹوز بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
ای کولی کے میٹابولزم کو اس طرح تبدیل کیا گیا کہ وہ گلوکوز کو اپنی توانائی کے لیے استعمال کرنے کی بجائے ٹیگاٹوز کی تیاری کی طرف موڑ دے۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل جینیاتی تبدیلیاں کی گئیں:pgi جین کا خاتمہ: pgi (phosphoglucose isomerase) کو ڈیلیٹ کرنے کا مقصد گلوکوز کو گلائکولیسس کے راستے میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔ اس سے گلوکوز-6-فاسفیٹ (G6P) کا بہاؤ دوسرے راستوں کی طرف موڑ دیا گیا۔galK جین کا خاتمہ: گیلیکٹو کائنیز (galK) کا خاتمہ اس لیے ضروری تھا تاکہ جو گیلیکٹوز پیدا ہو، وہ دوبارہ فاسفوریلیٹ ہو کر پاتھ وے میں واپس نہ چلا جائے۔ یہ تبدیلی گیلیکٹوز کو خلیے کے اندر جمع کرنے میں مدد دیتی ہے۔پاتھ وے کی ترتیب: انجینئرڈ راستہ کچھ اس طرح بنتا ہے: ٹیگاٹوز، گیلیکٹوز، جی 6 پی، جی 1 پی، Gal1P اور پھر آخر میں گلوکوزاس پورے عمل میں سب سے اہم مرحلہ گیلیکٹوز-1-فاسفیٹ (Gal1P) سے فاسفیٹ گروپ کو ہٹا کر اسے آزاد گیلیکٹوز میں تبدیل کرنا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مخصوص فاسفیٹیز انزائم کی ضرورت پیش آئی۔اس تحقیق کی سب سے اہم کامیابی ایک ایسے فاسفیٹیز انزائم کی دریافت ہے جو انتہائی مہارت کے ساتھ گیلیکٹوز-1-فاسفیٹ (Gal1P) پر عمل کرتا ہے۔ یہ انزائم سلائم مولڈ (Slime Mold) Dictyostelium discoideum سے حاصل کیا گیا ہے، جسے DdGal1Pase کا نام دیا گیا ہے۔یہ انزائم اس لیے اہم ہے کیوں کہ یہ میٹابولک توازن کو گیلیکٹوز کی پیداوار کی طرف دھکیلنے کے لیے ضروری تھرموڈینامک قوت فراہم کرتا ہے۔ گیلیکٹوز کے راستے میں G1P اور Gal1P کی باہمی تبدیلی قدرتی طور پر G1P کے حق میں ہوتی ہے۔ DdGal1Pase کے ذریعے Gal1P کو مسلسل ہٹانے (ڈی فاسفوریلیشن) سے پورا ری ایکشن آگے کی طرف چلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ فاسفیٹیز انزائم G1P اور Gal1P کے درمیان فرق کیسے کرتا ہے، کیوں کہ یہ دونوں مالیکیول ساخت میں بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں اور صرف کاربن-4 (C4) پر موجود ہائیڈروکسیل (OH) گروپ کی سمت میں مختلف ہیں۔ اگر انزائم G1P کو ڈی فاسفوریلیٹ کرنا شروع کر دیتا، تو گلوکوز کا ذخیرہ ضائع ہو جاتا اور پیداوار نہ ہوتی۔محققین نے مالیکیولر ڈائنامکس (Molecular Dynamics – MD) اور کوانٹم مکینکس (QM/MM) میٹا ڈائنامکس کا استعمال کرتے ہوئے اس راز سے پردہ اٹھایا۔ انکشاف ہوا کہ DdGal1Pase کے ایکٹیو سائٹ میں ہائیڈروجن بانڈنگ کا ایک ایسا پیچیدہ نیٹ ورک موجود ہے جو Gal1P کو خاص طور پر پہچانتا ہے۔پائیرانوز رنگ کی ترتیب: Gal1P اور G1P کے درمیان انزائم کے اندر 24.4 ڈگری کا زاویاتی فرق (Angular Difference) پایا گیا۔ یہ فرق Gal1P کو کیٹالیٹک پوزیشن میں لانے کے لیے اہم ہے۔E213 ریزیڈیو کا کردار: ریزیڈیو E213 Gal1P کے ایکسیئل (Axial) 4-OH گروپ کے ساتھ مضبوطی سے جڑ جاتا ہے۔ Gal1P کے ساتھ اس کی ہائیڈروجن بانڈنگ کی شرح G1P کے مقابلے میں تین گنا زیادہ دیکھی گئیD220 بمقابلہ D93 :Gal1P بنیادی طور پر D220 ریزیڈیو کے ساتھ 6-OH پوزیشن پر جڑتا ہے، جب کہ G1P غلطی سے D93 کے ساتھ 2-OH پوزیشن پر جڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ انزائم کے عمل کے لیے صحیح جگہ پر نہیں آپاتا۔میٹل آئن میکانزم: یہ عمل دو میگنیشیم آئنز (Mg2+) پر مشتمل میکانزم کے ذریعے انجام پاتا ہے، جس میں ریزیڈیو E71 بطور بیس (Base) کام کرتا ہے۔