نومبر 7, 2026

جاپانی وزیر کی سفارتی شرمندگی، ایکس کے خودکار ترجمے نے بنگلادیشی وزیراعظم کا نام ہی بدل دیا

ٹوکیو: جاپان کے وزیر تجارت ریوسی اکازاوا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے خودکار ترجمے کو سفارتی شرمندگی کا سبب قرار دیتے ہوئے شکایت کی ہے کہ اس فیچر نے ان کی پوسٹ کا ترجمہ کرتے ہوئے بنگلادیش کے موجودہ وزیراعظم طارق رحمان کا نام تبدیل کرکے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ لکھ دیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جاپانی وزیر نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وضاحت کرنا پڑی کہ وہ بنگلادیش کے موجودہ وزیراعظم کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے بقول، غلط ترجمے سے بنگلادیشی عوام میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا تھا کہ جاپان کا وزیر معیشت، تجارت اور صنعت اپنے ملک کے وزیراعظم کا نام تک نہیں جانتا۔اکازاوا نے 28 اکتوبر کو ایکس پر جاپانی زبان میں ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس کے ساتھ بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات کی تصاویر بھی موجود تھیں۔ تاہم پلیٹ فارم کے خودکار ترجمے نے انگریزی متن میں طارق رحمان کی جگہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کا نام ظاہر کردیا، جو 2024 کی عوامی تحریک کے بعد بنگلادیش چھوڑ کر بھارت میں مقیم ہیں۔جاپانی وزیر کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ ایکس کے خودکار ترجمے نے ان کی پوسٹ میں غلطی کی ہو۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو کویت کے وزیر برائے تیل طارق الرومی سے آن لائن ملاقات کے بارے میں کی گئی پوسٹ کا ترجمہ بھی غلط ہوگیا اور اس میں قطر کے وزیر توانائی کا نام ظاہر کیا گیا۔اکازاوا نے مزید کہا کہ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک سے ملاقات سے متعلق ان کی ایک پوسٹ میں بھی نام غلط ترجمہ ہوا تھا۔جاپانی وزیر کا کہنا تھا کہ انہیں اس نوعیت کی تین غلطیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے ایکس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے خودکار ترجمے کے نظام کی خامی دور کرے تاکہ ایسی غلط فہمیاں اور سفارتی مسائل پیدا نہ ہوں۔