اکتوبر 27, 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، ڈی چوک پر مرکزی تقریب

اسلام آباد: کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔یوم سیاہ جموں و کشمیر کی مناسبت سے اسلام آباد ڈی چوک پر وزارت امور کشمیر کی جانب سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سائرن بجا کر 1 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہم ہر سال یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جس کا مقصد دنیا کو بھارت کے بھیانک قدم سے آگاہ کرنا ہوتا ہے، یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ دنیا میں کشمیری عوام کی آواز بلند کریں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ مسئلہ ہم نے دنیا کے ہر کونے میں اجاگر کیا ہے، او آئی سی کے 57 ممالک میں ہم نے اس عنوان کو اجاگر کیا، دنیا اس مسئلہ کشمیر کو بھولی نہیں ہے، بھارت نے 5 اگست 2019 کو اس مسئلے کو مزید گھمبیر کر دیا، جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا ائین کے منافی تھا، بھارتی اقدامات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا ہے، بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے، اسی باعث غیر ملکی مندوبین کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دی جاتی، اس لیے کہ دنیا بھارت کے مظالم جان نہ لے۔نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان ہر فورم پر مسلہ کشمیر پر بات کرتے آئے ہیں، حال ہی میں شنگھائی میں ہم نے کشمیر کے لیے آواز بلند کی، ہم یو این جنرل اسمبلی سمیت ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنتے ہیں، ہمارا یقین ہے کشمیریوں کو جلد انکا حق ملے گا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے بہن بھائیوں کی آواز بنتا رہے گا، پاکستان کشمیر کی سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جو اسلام آباد کے ڈی چوک میں عوام کا جم غفیر دیکھ رہا ہوں مجھے یقیں ہو رہا کہ کشمیر جلد آزاد ہو گا، کشمیری عوام کو ہر صورت انکا حق واپس دینا ہو گا۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 ایک بدترین دن تھا جب بھارت نے زبردستی کشمیر پر قبضہ کیا، 80 سال ہو گئے مگر کشمیری عوام کا حوصلہ پست نہیں ہوا، 97 ہزار سے زائد شہری وہاں شہید ہو چکے ہیں، کتنی بہنیں بیوہ ہو گئیں اور بچے یتیم ہو گئے، ان تمام مظالم کے باوجود کشمیریوں کے دل میں اپنا حق لینے کا جذبہ موجود ہے۔
27 اکتوبر 1947
اس روز بھارت نے سری نگر میں اپنی فوجیں اتار کر کشمیر پر فوجی قبضے کا آغاز کیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو اجاگر کرنا ہے۔یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد کشمیری بھی ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ان مظاہروں اور سرگرمیوں کا مقصد عالمی برادری سے مطالبہ کرنا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔مظفرآباد میں بھی یوم سیاہ کے سلسلے میں شاہراہ سری نگر پر کنٹرول لائن کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ مارچ کے شرکا ضلع جہلم ویلی کے علاقے ہٹیاں بالا میں بھارت کے خلاف احتجاج کریں گے۔
وزیر اعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر پیغام
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ آج کا دن جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک المناک باب کی شروعات کی یاد دلاتا ہے جب 79 برس قبل بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں۔ اُس کے اثرات آج بھی اس خطے پر تاریک سائے پھیلاۓ ہوۓ ہیں۔ اُس روز سے اب تک جموں و کشمیر کے عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم شدہ، ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام نے بے پناہ مشکلات، مصائب اور جبر کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ان کی جرات، ثابت قدمی اور غیر متزلزل عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ نسل در نسل دی جانے والی قربانیاں، آزادی، وقار اور انصاف کے حصول کے لیے ان کی مستقل جدوجہد کا روشن ثبوت ہیں۔بھارت کشمیری عوام کے جائز سیاسی اظہار کو دبانے اور ان کی امنگوں کی ترجمانی کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کی مکروہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی بدستور طویل قید باعثِ تشویش ہے۔ یہ صورتحال قانونی تقاضوں کی پاسداری، بنیادی آزادیوں کا احترام اور جموں و کشمیر کی مجموعی دگرگوں حالات پر عالمی برادری کی زیادہ توجہ کے متقاضی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست، 2019 سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یک طرفہ اقدامات کا ایک سلسلہ اختیار کر رکھا ہے، جن میں بنیادی آزادیوں پر وسیع پیمانے پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں ان اقدامات نے اس علاقے کی سیاسی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو متاثر کیا ہے اور جن کی جانب عالمی سطح پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ ان اقدامات سے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قابلِ اطلاق قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح، مستقل اور اصولی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کا قیام جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ اور پُرامن حل کے بغیر ممکن نہیں، ایسا حل جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ جبر و استبداد کے ذریعے کشمیری عوام کی امنگوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ یومِ سیاہ، جموں و کشمیر کے موقع پر حکومت اور پاکستان کی عوام ، بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر ان کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔
صدر مملکت کا یوم سیاہ کشمیر پر پیغام
یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء ہمیں اس المناک دن کی یاد دلاتا ہے جب بھارتی افواج سرینگر میں اتریں اور جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک طویل اور دردناک باب کا آغاز ہوا، یہ دن کشمیری عوام کی دیرینہ امنگوں اور حقِ خودارادیت کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق کے حصول کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کے حوالے سے ہماری بھرپور تائید کا اعادہ ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کا اظہار یکجہتی
یوم سیاہ کشمیرکے موقع پرآزاد جموں وکشمیر کےعوام کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر1947 کو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوج کے غیرقانونی قبضے کیخلاف کشمیری عوام کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔شہریوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکےعوام کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ اٹوٹ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔