اکتوبر 24, 2026

خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ایس اے پی (سیپ) سسٹم میں فنڈز کے اندراج پر پابندی عائد کردی ہے، جبکہ فنڈز کے اجرا میں تاخیر، غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔محکمہ خزانہ کے مطابق سرکاری فنڈز کے اجرا اور اندراج کے لیے نئے ضابطہ کار جاری کردیے گئے ہیں، جن کے تحت مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری یا ہدایت کے بغیر سیپ سسٹم میں فنڈز درج نہیں کیے جاسکیں گے۔دستاویز کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) اور پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈز کے اجرا کے لیے مقررہ فارمیٹس پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ فنڈز کے اجرا میں تاخیر یا طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی پر متعلقہ افسر یا اہلکار کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔دستاویز میں ترقیاتی اور جاری بجٹ کے فنڈز کے اجرا اور اخراجات کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ترقیاتی فنڈز کے اجرا اور دوبارہ تخصیص کے لیے مجاز اتھارٹی کی منظوری لازمی ہوگی، جبکہ فوری نوعیت کے فنڈز جاری کرنے کے لیے بھی سیکرٹری خزانہ یا متعلقہ مجاز افسر سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا۔محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ منظوری کے مقررہ طریقہ کار کو نظرانداز کرنے کے لیے فوری فنڈز کے اجرا کی سہولت استعمال نہیں کی جاسکے گی۔ ترقیاتی اور جاری فنڈز کو منظوری کی تاریخ ہی پر سیپ سسٹم میں درج کرنا ہوگا، جبکہ اندراج میں تاخیر کی صورت میں متعلقہ افسر کو اس کی مناسب وجہ ریکارڈ پر لانا ہوگی۔