امریکا کے قومی انٹیلی جنس سربراہ جے کلیٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں امریکی شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ان کے مطابق ایرانی منصوبہ بندی سے متعلق بعض اطلاعات تشویش ناک ہیں اور مبینہ کارروائیوں کی تیاری ایک پیش رفتہ مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ جے کلیٹن نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک میمو میں کہا ہے کہ امریکی حکام کو ایسی انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں نمایاں طور پر بڑھا دی ہیں۔میمو میں مزید خبردار کیا گیا کہ امریکی شہریوں کے خلاف ایرانیوں کی مبینہ مہلک کارروائیوں کی منصوبہ بندی مشرقِ وسطیٰ اور بعض دوسرے ممالک میں ایک اعلیٰ درجے تک پہنچ چکی ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے سب سے پہلے اس میمو کی اطلاع دی، جس کے بعد اے ایف پی نے بھی امریکی عہدیدار کے حوالے سے اس کی تفصیلات رپورٹ کیں۔تاہم دستیاب رپورٹ میں ان مبینہ منصوبوں کے ممکنہ اہداف، مخصوص ممالک یا کسی طے شدہ حملے کے وقت سے متعلق تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ ایرانی حکام کا اس رپورٹ پر ردعمل بھی فراہم کردہ خبر میں شامل نہیں ہے۔یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورت حال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔




