اکتوبر 11, 2026

دنیا بھر میں کینسر کے کیسز میں 2050 تک 77 فی صد اضافے کا خدشہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کے مطابق دنیا بھر میں کینسر صحتِ عامہ کا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جبکہ 2050 تک اس مرض کے سالانہ نئے کیسز کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر جانے کا خدشہ ہے۔اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 2 کروڑ نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ اس بیماری کے باعث تقریباً 97 لاکھ اموات ہوئیں۔ پیشگوئی کے مطابق 2050 تک نئے کیسز کی تعداد میں 2022 کے مقابلے میں تقریباً 77 فی صد اضافہ ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی بڑی وجوہات میں آبادی میں اضافہ، عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بیماری کے خطرات سے متعلق عوامل میں تبدیلی شامل ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر پانچ میں سے تقریباً ایک شخص کو زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر لاحق ہونے کا خدشہ ہے جبکہ تقریباً ہر نو میں سے ایک مرد اور ہر 12 میں سے ایک خاتون اس بیماری کے باعث جان سے جا سکتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں سب سے زیادہ تشخیص ہونے والا کینسر تھا (جس کے تقریباً 25 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے) جو مجموعی کیسز کا 12.4 فیصد بنتے ہیں۔ خواتین میں چھاتی کا کینسر دوسرے نمبر پر رہا جبکہ بڑی آنت، پروسٹیٹ اور معدے کے کینسر بھی عام اقسام میں شامل تھے۔پھیپھڑوں کا کینسر، کینسر کے باعث ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی رہا۔ڈبلیو ایچ او اور آئی اے آر سی نے تمباکو نوشی، شراب نوشی اور موٹاپے کو کینسر کے اہم خطرے کے عوامل میں شمار کیا ہے۔ اداروں کے مطابق مختلف ممالک میں کینسر کے کیسز میں اضافے کی شرح یکساں نہیں ہوگی کیونکہ اس کا تعلق آبادی، معاشی و سماجی ترقی اور خطرے کے عوامل سے بھی ہے۔ماہرین کے مطابق ان تخمینوں سے کینسر کی روک تھام، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولیات کو بہتر بنانے کی اہمیت واضح ہوتی ہے، تاکہ مستقبل میں بیماری کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور اس سے ہونے والی اموات کو کم کیا جا سکے۔