اکتوبر 5, 2026

مائیک ہیسن ’نان پلیئنگ کپتان‘

چند سال، سوری چند ماہ پہلے کی ہی بات ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 8 راؤنڈ سے آگے نہ بڑھ سکی، بعد میں رپورٹ سامنے آئی جس میں کوچ مائیک ہیسن پر تمام تر ملبہ ڈال دیا گیا کہ انہوں نے کپتان کی ذمہ داری بھی خود سنبھال لی تھی، سلمان علی آغا کا صرف چہرہ استعمال ہوا اصل فیصلے کوچ ہی کرتے رہے۔سلیکشن کمیٹی نے ابتدائی اسکواڈ میں بابر اعظم کو شامل نہیں کیا تھا ہیسن نے زور دے کر انہیں منتخب کروایا، دوران میچ پیغامات بھیج کر کپتان پر غیر ضروری دباؤ ڈالا گیا، فخرزمان کو ابتدائی میچز میں ڈراپ کرنے اور عثمان طارق کو مختلف میچز میں تاخیر سے بولنگ دینے یا وکٹ لینے کے باوجود ہٹا دینے کے فیصلے بھی ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کی جانب سے سامنے آئے، اس وقت تقریبا یقینی تھا کہ کوچ کو جلد گھر بھیج دیا جائے گا لیکن حالات نے حیران کن پلٹا کھایا، ہیسن نہ صرف عہدے پر برقرار رہے بلکہ اب تو دورہ انگلینڈ میں کوچز کے فارغ ہونے پر ٹیسٹ میں بھی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔وہ عاقب جاوید جو انہیں بالکل پسند نہیں کرتے تھے اب بچپن کے دوست کی طرح قریب آ چکے ہیں، یہی پاکستان کرکٹ ہے، جیسے 1992 کے ورلڈکپ میں ٹیم اخراج کے دہانے پر پہنچ کر چیمپئن بنی تھی ویسے ہی کوچ برطرفی سے بچ کر ’آل ان ون‘ بن گئے۔ ٹیم کی کارکردگی غیرمعمولی نہیں لگتی لیکن کوچ جو اعدادوشمار پیش کرتے ہیں اس کے مطابق ہم آسٹریلیا سے بھی آگے ہیں، نجانے پھر بھی اکثر ہارتے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں، اب سلمان علی آغا کی چھٹی یقینی ہے، اس کے بعد نیا کپتان آئے گا، شاید وہ صاحبزادہ فرحان ہی ہوں جنھوں نے ایشین گیمز میں نوجوان اسکواڈ کی قیادت سنبھالی۔ون ڈے میں شاہین آفریدی فتوحات کے باوجود ٹی ٹوئنٹی کپتانی کیلیے زیر غور نہیں آتے کیونکہ وہ یس مین نہیں اور ان سے کوئی بات زبردستی منوائی نہیں جا سکے گی، اسی طرح شاداب خان گو کہ اسلام آباد یونائٹیڈ کی وجہ سے ہیسن کے بے حد قریب ہیں لیکن ایسا لگتا نہیں کہ فوری طور پر کپتانی مل پائے گی، شاداب بھی ایسے کھلاڑی نہیں جو ہاں میں ہاں ملائیں۔ سلمان علی آغا کو استعمال کیا گیا لیکن وہ خود پرفارم کر سکے نہ ہی ٹیم کو کامیابیاں دلائیں۔جس طرح ایشین گیمز میں ہمیں ہیسن ’نان پلیئنگ کپتان‘ کے روپ میں نظر آئے اب یہی محسوس ہوتا ہے کہ صاحبزادہ فرحان ہی انہیں سوٹ کریں گے۔بھارت کیخلاف ایشین گیمز فائنل میں پاکستان کے پاس فتح کا سنہری موقع تھا لیکن پلئینگ الیون کے انتخاب اور بولنگ میں حیران کن فیصلوں نے خواب بکھیر دیے، ہیسن فیلڈ کے باہر مکمل ایکٹیو نظر آئے اور انہی کے احکامات پر عمل ہوتا رہا۔ تاریخپڑھیںپہلے یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ بابر اعظم کے ساتھ ڈیل ہوئی ہے اور انہیں تینوں طرز میں قیادت مل جائے گی لیکن دورہ انگلینڈ میں جو کچھ ہوا اس کے بعد ان کی ٹیسٹ کپتانی بھی بچ جائے تو غنیمت ہے، شاہین اب شاید ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں بھی نہ ہوں ورنہ یہ باتیں ہو سکتی ہیں کہ انہیں کپتان کیوں نہیں بنایا، بابر ٹیم میں موجود رہیں گے کیونکہ حکام کو ایک ڈر لگا رہتا ہے کہ سینئر بیٹرز نہ ہوئے تو 20 اوورز کھیلنا مشکل ہو سکتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ صاحبزادہ اگر کپتان بنے تو کب تک عہدے پر رہتے ہیں، اگر مزید شکستیں ہوئیں تو ان کو ہٹا کر کسی نئے چہرے کو لے آیا جائے گا، البتہ یہ مسئلے کا حل نہیں، پاکستان نے جب بھی کوئی بڑا ایونٹ جیتا کوچ نہیں کپتان مضبوط تھے، چاہے وہ عمران خان، یونس خان یا سرفراز احمد جو بھی ہوں انہیں اپنے فیصلوں میں آزادی تھی، کوچ ٹیم سلیکٹ کرنے کے بعد انہیں پلیئنگ الیون بنا کر نہیں دیتا تھا، کسے کب بولنگ دینی ہے، بیٹنگ آرڈر کیا ہو گا؟ ایسے فیصلے کپتان ہی کرتے، باؤنڈری پر کھڑا کوچ ہدایات نہیں دیتا تھا۔اب بھی کوئی ایسا بااختیار قائد ہونا چاہیے، چاہے وہ بابر، شاہین، صاحبزادہ یا شاداب جو بھی ہو، اسے ڈرا کر نہ رکھیں بلکہ مکمل اختیارات دیں، ٹیم جب ہارتی ہے تو سب سے زیادہ برا بھلا کپتان کو ہی کہا جاتا ہے تو پھر اسے فیصلوں میں آزادی ہونی چاہیے۔گزشتہ شکستوں کے جتنے ذمہ دار سلمان علی آغا تھے اتنے ہی ہیسن بھی ہیں، اگر کپتان کو ہٹا دیا تو کوچ کو کیوں چھوڑ دیا؟ ہیسن کا معاہدہ بھی کمال کا ہے، انہیں نہ صرف ابتدائی اسکواڈ کی تشکیل بلکہ پلیئنگ الیون بنانے کا اختیار بھی حاصل ہے، وہ اپنے ان اختیارات کا مکمل استعمال بھی کرتے ہیں، کبھی ان کی ٹیم میں آل رائونڈرز کی بھرمار ہوتی ہے تو کبھی 5 اوپنرز ایک ساتھ کھیلتے ہیں۔صائم ایوب اچھا خاصا بیٹر ٹھیک تھا، آل راؤنڈرر بنانے کے چکر میں اسے برباد کر دیا، اب بیٹنگ نہ ہی بولنگ کر پاتا ہے، بیٹنگ آرڈر میں مسلسل تبدیلیاں بھی ٹیم کیلیے تباہ کن ثابت ہوئیں، اب یا تو ہیسن یہ لکھ کر دیں کہ اگلا ورلڈکپ جتواؤں گا تو پھر انہیں جو کرنا ہے کرنے دیں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر ان سے کہیں کہ بھائی اپنے ڈومین میں رہو، یہ ٹینس نہیں کہ نان پلیئنگ کپتان چل جائے، یہاں ایسا نہیں ہوتا۔پی سی بی کو الگ سلیکشن کمیٹی بھی بنانی چاہیے جس میں ٹیم مینجمنٹ سے مختلف افراد رکھیں، عاقب جاوید کو مکمل اختیارات دینے کا پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کو جو نقصان ہوا وہ سب کو یاد ہی ہو گا، پھر جب سمین رانا اور عاطف رانا فرنٹ فٹ پر آئے اور شاہین آفریدی نے قیادت سنبھالی تو ٹیم کی قسمت پلٹ گئی، اب عاقب لاہور قلندرز والے تجربات پاکستان کرکٹ میں بھی کر رہے ہیں، ان کو ٹیم کے معاملات سے مکمل دور رکھنا چاہیے، کوچ سے رائے ضرور لیں لیکن اسکواڈ ایک الگ سلیکشن کمیٹی تشکیل دے جس میں عاقب اور ہیسن دونوں شامل نہ ہوں، پھر دیکھیے گا بہتری ضرور آئے گی۔ایشین گیمز میں گولڈ میڈل تو ہاتھ سے نکل گیا، اب آگے کیلیے اچھی حکمت عملی بنائیں، سب اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں تو شاید کچھ اچھا ہوجائے، ورنہ اب پاکستانی شائقین کو شکستیں سہنے کی عادت تو ہو ہی چکی ہے، مزید بھی سہہ لیں گے۔