ستمبر 13, 2026

غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!

برطانوی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوعمر افراد کے مقابلے میں غریب پس منظر سے آنے والے نوجوانوں میں کھانے سے متعلق بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق جن نوجوانوں کے والدین نے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہیں کی ان میں ان بیماریوں کا خطرہ 25 فی صد زیادہ پایا گیا۔ ان بیماریوں میں اینوریکسیا، بُلیمیا اور حد سے زیادہ کھانے کی بیماری شامل ہیں۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اوسط سے زیادہ آمدنی رکھنے والے والدین کے بچوں میں ایسی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے۔تاہم، سماجی و معاشی حیثیت جانچنے کے دیگر پیمانے (جیسے والدین کا پیشہ، مالی مشکلات یا حکومتی امداد حاصل کرنا) اور کھانے کی بیماریوں کی علامات کے درمیان تعلق اتنا مستقل اور واضح نہیں تھا۔یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کھانے کی بیماریوں کو صرف متوسط یا خوشحال طبقے کا مسئلہ سمجھنا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔نوعمر افراد میں کھانے کی بیماریوں کی ماہر اور تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹر نورا ٹرومپیٹر نے کہا کہ کھانے کی بیماریاں اکثر خوشحالی سے جڑے مسئلے کے طور پر دیکھی جاتی ہیں لیکن ہماری تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ مکمل تصویر اس سے کہیں مختلف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کھانے کی بیماریاں آمدنی یا تعلیمی پس منظر کی بنیاد پر کسی میں فرق نہیں کرتیں۔ اگر کچھ کہا جائے تو دستیاب شواہد اس کے برعکس سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انہیں صرف ’مراعات یافتہ طبقے‘ کی بیماری سمجھنے سے ان نوعمر افراد کی تشخیص اور علاج نظرانداز ہو سکتا ہے جنہیں مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔