اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ سے فلسطینی آبادی کو نکالنے کے منصوبے کے لیے تیار ہے تاہم اس معاملے میں امریکا کی منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے۔اسرائیلی میڈیا کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاٹز نے کہا کہ غزہ کے مسئلے کا مستقل حل فلسطینیوں کی نقل مکانی کے بغیر ممکن نہیں۔ان کے مطابق اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے سمندری، فضائی اور دیگر راستوں سے کارروائی کرنے کی تیاری رکھتی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجویز ختم نہیں ہوئی بلکہ اس پر اب بھی غور جاری ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکا کی منظوری ضروری ہوگی۔کاٹز نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی بڑی تعداد میں آبادی وہاں سے نکلنا چاہتی ہے، تاہم حماس انہیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔دوسری جانب فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی تجویز کو شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے بڑے پیمانے پر بے دخلی کا تصور 1948 کے ’’نکبہ‘‘ کی یاد تازہ کرتا ہے، جب بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے تھے۔بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے سے شہریوں کی جبری بے دخلی کو جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں پہلے ہی بڑی تعداد میں فلسطینی اندرونِ غزہ نقل مکانی کرچکے ہیں۔




