ستمبر 1, 2026

پاکستان کرکٹ کو تباہ کردیا، سابق کرکٹرز کی پی سی بی کے فیصلے پر کڑی تنقید

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد ٹیم سے نکالے جانے والے امام الحق لاہور واپس پہنچ گئے۔تفصیلات کے مطابق امام الحق علامہ اقبال ایئرپورٹ پر چہرے پر ماسک لگائے پہنچے اور خاموشی سے گھر روانہ ہوگئے۔امام الحق کے ساتھ محمد رضوان کی فلائٹ پشاور کے لیے شیڈول تھی۔دوسری جانب سلمان علی آغا اور علی عثمان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے ٹیم ہوٹل چھوڑ دیا ہے اور اپنے عزیزوں کے پاس کسی دوسرے شہر چلے گئے ہیں۔برمنگھم ٹیسٹ میں ٹیم میں شامل ہونے والے عرفات منہاس آج ٹیم کو جوائن کرلیں گے۔انگلینڈ میں ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں عبرتناک شکست کے بعد قومی اسکواڈ سے دوران سیریز سات کھلاڑیوں کو نکال دیا گیا۔حیران کن بات یہ ہے کہ ان سات کھلاڑیوں میں وہ کھلاڑی بھی شامل ہیں جو دونوں میچز کی پلیئنگ الیون میں شامل ہی نہیں تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اس فیصلے پر سابق کرکٹرز کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ پاکستان کو 2011 کے ورلڈکپ میں سیمی فائنل تک لے جانے والے کپتان شاہد آفریدی نے کہا اس فیصلے کی منطق سمجھ نہیں آئی، یہاں تک کہ متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے؟ یہ کیسی سوچ اور کیسا طرزِ عمل ہے؟سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اتنے سارے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کی جانب سے یہ اب تک کا سب سے زیادہ حیران کن فیصلہ ہے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے اولین ایڈیشن میں پاکستان کو فائنل تک لے جانے والے کپتان شعیب ملک نے کہا کہ اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے والے کھلاڑی اب بھی ہمارے قومی کرکٹرز ہیں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کے لیے ’پہلی فلائٹ سے واپس بھیجنے‘ جیسے جملے توہین آمیز ہیں۔شعیب ملک نے کہا کہ احتساب کا آغاز کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے نظام کو خراب کیا۔ بینچ پر بیٹھے یا صرف دو، تین ٹیسٹ میچز کھیلنے والے کھلاڑیوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ احتساب کا عمل بھی دورے کے اختتام پر شروع ہونا چاہیے تھا۔شعیب ملک نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہر خراب میچ کے بعد کھلاڑیوں کو اس قسم کے ذہنی دباؤ اور تنقید کا سامنا نہیں کرنا چاہیے، ورنہ ناکامی کا خوف ہمارے کھلاڑیوں کے ذہنوں میں بس جائے گا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کا بیڑا غرق کردیا ہے، کسی کو کسی کی عزت کی پروا نہیں ہے۔