اگست 18, 2026

پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی

لاہور: پیٹرولیم لیوی کیخلاف لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں جماعت اسلامی کے دھرنے تیسرے روز بھی جاری ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ رات کیے گئے اضافے کیخلاف کل ملک گیر ہڑتال کا عندیہ دے دیا۔لاہور میں دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ رات کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں مزید پانچ روپے اضافہ کردیا، حکومت نے اضافہ فوری واپس نہ لیا تو کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام میں غم و غصہ بڑھا رہی ہے، عوام پٹرول کے ہر لیٹر پر حکومت کو لیوی بھتہ ٹیکس دیتے ہیں، لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، حکومت زبردستی عوام سے پیسے لے رہی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایف بی آر میں کرپشن عروج ہر ہے، بجلی اور گیس کے بلوں پر بھاری ٹیکسز عائد ہیں، آٹا 160 روپے کلو، روٹی 25 روپے کی ہو چکی ہے، آج کسان بھی مہنگائی کے باعث پریشان ہیں۔ ڈی اے پی اور یوریا کسان کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر گرینڈ ڈائیلاگ ہونا چاہئے، جماعت اسلامی انتظامی یونٹس کیخلاف نہیں، آئین کے مطابق یونٹس بننے چاہئیں، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ کی اپنی کوئی اوقات نہیں دونوں صرف ایک ٹیلی فون کال کی مار ہیں، تین فون کالز سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی قرارداد منظور ہوچکی اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا، پنجاب میں 2015 سے مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں، جب مقامی حکومتوں کےالیکشن نہیں کرواتے تو پھرایسے معاملات پر بحث شروع ہوجاتی ہے، یہ دھرنے ان کیخلاف ہی ہے جو ان حکومتوں کولانے والے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ وہ کل پشاور جائیں گے اور اس کے بعد کراچی میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کریں گے، ممکن ہے کہ کل ملک گیر ہڑتال کی کال بھی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دھرنے ان قوتوں کے خلاف بھی ہیں جو موجودہ حکومتوں کو اقتدار میں لانے کا سبب بنتی ہیں۔دوسری جانب جماعت اسلامی کے دھرنے کے تیسرے روز لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عرفان حیات باجوہ نے چیئرنگ کراس پر دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک کو ضرورت پیش آئی جماعت اسلامی نے اپنا کردار ادا کیا، وکلا برادری جماعت اسلامی کے مؤقف کی حمایت کرتی ہے۔