اگست 16, 2026

پودوں پر مشتمل غذا آنتوں کے بیکٹیریا کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟ اہم انکشاف

پودوں پر مشتمل غذا انسانی صحت کے مختلف پہلوؤں، خصوصاً نظامِ ہاضمہ، مدافعتی نظام، میٹابولزم اور قلبی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ نئی سائنسی تحقیق نے اس حوالے سے اس عمل کو سمجھنے میں مزید پیش رفت کی ہے کہ پودوں سے حاصل ہونے والی غذا آنتوں میں موجود بیکٹیریا اور جسم کے میٹابولزم کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔تحقیق کے مطابق نباتاتی غذاؤں کے فوائد میں ایک اہم کردار آنتوں میں موجود بیکٹیریا کی متنوع آبادی کا ہے۔ سائنس دان طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ غذائی فائبر ان فوائد میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ آنتوں کے جراثیم فائبر کو توڑ کر مختلف مرکبات تیار کرتے ہیں۔پودوں میں موجود رنگ دار کیمیائی مرکبات، جنہیں فائٹو کیمیکلز کہا جاتا ہے، بھی انسانی صحت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ یہ مرکبات پودوں کو ماحولیاتی خطرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اور انسانی جسم میں بھی مختلف حیاتیاتی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔لڈوِگ پرنسٹن سے وابستہ جینا ابو سلیم اور ڈائریکٹر جوشوا رابینووٹز کی قیادت میں ہونے والے دو مطالعوں میں اس عمل سے متعلق نئی معلومات فراہم کی گئیں۔ ایک تحقیق پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں جبکہ دوسری نیچر میٹابولزم میں شائع ہوئی۔پہلی تحقیق سے معلوم ہوا کہ پودوں سے حاصل ہونے والا فائبر اور بعض نباتاتی پروٹین آنتوں کے جراثیم کے میٹابولزم کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں بعض مفید میٹابولائٹس کی مقدار بڑھ سکتی ہے جبکہ نقصان دہ مرکبات میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔دوسری تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ ایسے کئی اہم میٹابولائٹس جنہیں عام طور پر آنتوں کے بیکٹیریا کی پیداوار سمجھا جاتا ہے، دراصل ممالیہ جانوروں کے جسم میں بھی نمایاں مقدار میں پیدا ہوسکتے ہیں۔تحقیق کے شریک مصنف جوشوا رابینووٹز کے مطابق انسانی مائیکرو بایوم اور اس سے پیدا ہونے والے میٹابولک مرکبات کو علاج کے لیے استعمال کرنے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ تاہم، مؤثر طبی طریقہ علاج تیار کرنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غذا کے کون سے اجزا آنتوں کے بیکٹیریا کی مخصوص سرگرمیوں اور ان کے پیدا کردہ مرکبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئی تحقیق مستقبل میں ایسی غذائی حکمتِ عملی اور علاج وضع کرنے میں مدد دے سکتی ہے جن کے ذریعے آنتوں کے مائیکرو بایوم اور جسم میں پیدا ہونے والے مفید میٹابولائٹس کو زیادہ مؤثر انداز میں متاثر کیا جاسکے۔