اگست 16, 2026

تیل کی آمدنی میں کمی اور فیکٹریوں کی تباہی سے ایران کے معاشی مسائل کئی گنا بڑھ گئے، صدر پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے معاشی مسائل مزید سنگین ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق تیل کی آمدنی میں کمی اور جنگ کے دوران صنعتی تنصیبات اور فیکٹریوں کی تباہی نے ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔انادولو کے مطابق ایرانی میڈیا میں نشر ہونے والے بیانات میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک میں قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اخراجات میں اضافہ اور حکومت کی آمدنی میں کمی ہے۔ ان کے مطابق تیل کی فروخت میں کمی کے باعث ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی بھی کم ہوگئی ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں ایران اپنی ضرورت کی درآمدی اشیا نسبتاً براہ راست راستوں سے حاصل کرتا تھا، لیکن اب مختلف متبادل راستوں سے سامان ملک میں پہنچ رہا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا کی حتمی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق ایران پہلے تیل فروخت کرتا تھا، لیکن موجودہ حالات میں تیل کی فروخت پہلے کی طرح ممکن نہیں رہی، جس سے حکومت کے مالی وسائل متاثر ہوئے ہیں۔ایرانی صدر نے جنگ کے دوران ملک کے صنعتی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو بھی معاشی مشکلات کی اہم وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں فیکٹریوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جس سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ حکومت کی ٹیکس آمدنی بھی کم ہوگئی۔پزشکیان کے مطابق جب فیکٹریاں اور صنعتی ادارے تباہ ہوجاتے ہیں یا ان کی سرگرمیاں رک جاتی ہیں تو حکومت کو ان سے ٹیکس بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اب حکومت کو بعض متاثرہ فیکٹریوں کو دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنا پڑ رہی ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ اس صورتحال نے حکومت پر دوہرا مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ایک طرف ریاست کی آمدنی کم ہوگئی ہے جبکہ دوسری جانب جنگ سے متاثرہ صنعتی اداروں کو دوبارہ فعال رکھنے کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنا پڑ رہے ہیں۔انہوں نے موجودہ صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مسائل پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئے ہیں، جبکہ ملک کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔صدر پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو جنگ کے نتیجے میں تیل کی برآمدات، صنعتی پیداوار، تجارت اور حکومتی آمدنی کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ جنگ کے باعث سپلائی کے راستوں میں تبدیلی اور صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے بھی ملکی معیشت کو متاثر کیا ہے۔معاشی ماہرین کے لیے ایران کی تیل آمدنی میں کمی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ تیل ملکی معیشت اور حکومتی آمدنی کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر تیل کی برآمدات طویل عرصے تک متاثر رہتی ہیں تو حکومت کے مالی وسائل پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔