اگست 4, 2026

آبنائے ہرمز میں مشترکہ دوطرفہ بحری راستے کے قیام پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری

تہران: ایران نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک مشترکہ دوطرفہ بحری راستہ قائم کرنے کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاکہ اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری آمدورفت کو بہتر اور محفوظ بنایا جا سکے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کا بنیادی مقصد موجودہ شمالی اور جنوبی الگ الگ بحری راستوں کی جگہ ایک مشترکہ درمیانی بحری راہداری قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ راستے کو اس انداز میں ترتیب دیا جا رہا ہے کہ ایران اور عمان، دونوں ساحلی ممالک کے مفادات اور سکیورٹی خدشات کا یکساں خیال رکھا جا سکے۔اسماعیل بقائی کے مطابق اس معاملے پر ہونے والی بات چیت میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت نہیں ہے اور مذاکرات صرف ایران اور عمان کے درمیان جاری ہیں۔دوسری جانب عمان کی وزارت خارجہ نے تاحال ان مذاکرات کی نہ تو باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کسی مشترکہ انتظام پر متفق ہو جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت معمول پر آ جاتی ہے تو اس سے عالمی تجارت، خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ منتقل کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی پیش رفت یا کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔